نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نے رامسر مقامات کے حوالے سے ایک اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اتر پردیش کے ضلع بلیا میں واقع جے پرکاش نارائن برڈ سینکچری (سورہا تال) کو ملک کا سوواں رامسر مقام قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آبی ذخیرہ پرندوں کی متنوع اقسام سے مالا مال ہے اور یہاں بڑی تعداد میں مقامی اور ہجرت کر کے آنے والے پرندے پائے جاتے ہیں۔
ویٹ لینڈ کو ملی عالمی شناخت
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر لکھا، ’’رامسر مقامات کے معاملے میں بھارت نے سنچری مکمل کر لی ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اتر پردیش کے بلیا میں واقع جے پرکاش نارائن پرندہ محفوظ گاہ (سورہا تال) کو بھارت کا سوواں رامسر مقام قرار دیا گیا ہے۔ یہ آبی ذخیرہ پرندوں کی بے شمار اقسام کا مسکن ہے اور یہاں مقامی و مہاجر پرندوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔‘‘
آبی ذخائر کے تحفظ کے عزم کا مظہر
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ کامیابی قدرتی ماحول اور خصوصاً آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے بھارت کے مضبوط عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہمارے قدرتی ماحول اور خاص طور پر آبی ذخائر کے تحفظ کے لیے بھارت کی غیر متزلزل وابستگی اس کامیابی میں صاف طور پر جھلکتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں عوامی شمولیت، سائنسی تحقیق، جدت طرازی اور بیداری مہمات کے ذریعے آبی ذخائر کو محفوظ بنانے اور ان کی بحالی کی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
عالمی یومِ ماحولیات پر خصوصی پیغام
اس سے قبل عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر وزیر اعظم مودی نے ’’ایک زمین، ایک خاندان اور ایک مستقبل‘‘ کے اصول اور ’’مشن لائف‘‘ کے تصور سے رہنمائی لیتے ہوئے صاف، سرسبز اور پائیدار مستقبل کی تعمیر کے لیے بھارت کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔ ہر سال 5 جون کو منایا جانے والا عالمی یومِ ماحولیات ماحولیاتی چیلنجز کے بارے میں شعور بیدار کرنے اور زمین کے تحفظ کے لیے عوام کو متحرک کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کی قیادت میں یہ ماحولیات کے تحفظ اور عوامی شرکت کی دنیا کی سب سے بڑی مہمات میں شمار کیا جاتا ہے۔
عالمی یومِ ماحولیات کا آغاز
عالمی یومِ ماحولیات کی بنیاد 1972 میں سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں منعقد ہونے والی ’’انسانی ماحولیات سے متعلق اقوام متحدہ کانفرنس‘‘ کے بعد رکھی گئی تھی۔ اس کانفرنس نے عالمی سطح پر پالیسی سازی میں ماحولیاتی مسائل کو مرکزی حیثیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات قرار دیا اور پہلی مرتبہ یہ دن 1973 میں منایا گیا۔
عالمی ماحولیاتی چیلنجز پر توجہ
یہ دن موسمیاتی تبدیلی، آلودگی، حیاتیاتی تنوع میں کمی اور قدرتی وسائل کی قلت جیسے عالمی مسائل کی جانب توجہ مبذول کرانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ یہ افراد، برادریوں، کاروباری اداروں اور حکومتوں کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے اور ماحولیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
عالمی تحریک کی صورت اختیار کر چکا دن
وقت گزرنے کے ساتھ عالمی یومِ ماحولیات 150 سے زائد ممالک کی شمولیت پر مشتمل ایک عالمی تحریک بن چکا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں شجرکاری مہمات، ساحلی علاقوں کی صفائی، تعلیمی پروگراموں اور پالیسی سازی سے متعلق مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ہر سال ایک میزبان ملک کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ایک مخصوص موضوع کے ذریعے کسی اہم ماحولیاتی مسئلے کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
انفرادی کردار بھی ضروری
اگرچہ ماحولیات کے تحفظ میں حکومتوں اور اداروں کا کردار نہایت اہم ہے، لیکن انفرادی سطح پر کیے جانے والے اقدامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ کچرے میں کمی، پانی کی بچت، عوامی ٹرانسپورٹ کا استعمال، درخت لگانا اور پائیدار طرزِ زندگی اپنانا جیسے چھوٹے اقدامات مل کر ماحول میں بڑا اور مثبت فرق پیدا کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

