روم: اٹلی کے جنوبی علاقے کیلابریا کے قصبے امیندولارا میں چار تارکین وطن کے ہولناک قتل کے معاملے میں دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین افغان شہری شامل تھے، جنہیں ایک منی وین میں زندہ جلا دیا گیا۔ واقعے نے پورے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے جبکہ پولیس نے ملزمان کے خلاف قتل اور دیگر سنگین جرائم کے تحت تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اطالوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس المناک واقعے میں صرف ایک شخص زندہ بچ سکا، جو افغان شہری ہے۔ اس نے مقامی صحافی فرانسسکو سالواٹور کو اپنی دردناک داستان سناتے ہوئے بتایا کہ ملزمان نے ان سے نقل و حمل کے اخراجات کے نام پر رقم طلب کی تھی، لیکن جب متاثرین نے ادائیگی سے انکار کیا تو معاملہ تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ زندہ بچ جانے والے شخص کے مطابق دونوں پاکستانی شہریوں نے پہلے گاڑی کے اندر پٹرول چھڑکا اور پھر لائٹر کی مدد سے آگ لگا دی۔ چند ہی لمحوں میں پوری گاڑی شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی اور اندر موجود افراد کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔ اس نے بتایا کہ وہ کسی طرح گاڑی کی کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہو گیا، جبکہ باقی چار افراد آگ میں جھلس کر ہلاک ہو گئے۔
متاثرہ شخص نے بتایا کہ جب گاڑی میں آگ لگی تو اسے یقین ہو گیا تھا کہ وہ بھی زندہ نہیں بچ سکے گا۔ اس کے بقول یہ کسی معجزے سے کم نہیں کہ وہ جان بچانے میں کامیاب رہا۔ اس نے مزید الزام لگایا کہ ملزمان پہلے بھی تارکینِ وطن کو دھمکاتے رہے تھے اور انہیں چاقو اور اسلحے کے زور پر کام کرنے پر مجبور کرتے تھے، تاہم مزدوری کے عوض مناسب رقم ادا نہیں کی جاتی تھی۔ مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق پیر کے روز امیندولارا میں آئیونین اسٹیٹ روڈ 106 کے قریب ایک پٹرول پمپ کے نزدیک کھڑی منی وین میں آگ لگنے کی اطلاع پولیس اور فائر بریگیڈ کو دی گئی تھی۔ امدادی اہلکار جب موقع پر پہنچے تو گاڑی مکمل طور پر جل چکی تھی اور اس کے اندر چار جھلسی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔
پولیس نے ابتدائی تحقیقات اور زندہ بچ جانے والے شخص کے بیان کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں مشتبہ پاکستانی شہریوں کو قریبی علاقے ولاپیانا سے گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں انہیں کوزینزا پولیس ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا، جہاں خصوصی تفتیشی ٹیم ان سے مسلسل پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ اگر الزامات ثابت ہو گئے تو ملزمان کو اطالوی قانون کے تحت سخت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



