Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Foreign Tour: مودی کے 5 ممالک کے دورے نے کھسکا دی چین کی زمین! 40 ارب کی سرمایہ کاری، سیمی کنڈکٹر، ٹیکنالوجی… کیا کچھ ساتھ لیکر آئے وزیر اعظم؟

وزیر اعظم نریندر مودی کے پانچ ممالک کے دورے کے بعد بھارت کو 42 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں کی پیشکش ملی ہے۔ سیمی کنڈکٹر، مصنوعی ذہانت (AI)، گرین انرجی اور لاجسٹکس جیسے شعبوں میں عالمی کمپنیاں اب ‘چائنا پلس ون’ حکمتِ عملی کے تحت بھارت کو ترجیح دے رہی ہیں…

وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ پانچ ممالک کے غیر ملکی دورے نے بھارتی معیشت کے لیے ایک نئے سنہرے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ جب دنیا کی دو بڑی طاقتیں، چین اور مغربی ممالک، تجارتی جنگ (Trade War) اور کشیدگی میں الجھے ہوئے ہیں، عین اسی وقت پی ایم مودی نے سفارتی شطرنج پر ایسا ماسٹر اسٹروک کھیلا کہ عالمی کمپنیوں نے چین کا ساتھ چھوڑ کر بھارت کا ہاتھ تھام لیا۔بتا دیں کہ اس دورے سے بھارت کو تقریباً 3.5 لاکھ کروڑ روپے کی بھاری سرمایہ کاری اور توسیعی منصوبوں کی صورت میں ایک بڑا “اقتصادی جیک پاٹ” حاصل ہوا ہے۔ یہ صرف سرکاری اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ دنیا اب بھارت کو صرف ایک ’مارکیٹ‘ نہیں بلکہ’گلوبل مینوفیکچرنگ اور انوویشن ہب‘ کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

3 ٹریلین ڈالر کا ’کارپوریٹ کمبھ‘

اس دورے کی سب سے بڑی خاص بات پی ایم مودی کی دنیا کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ہونے والی اہم ملاقاتیں رہیں۔ دورے کے دوران وزیر اعظم نے سیمی کنڈکٹر، اے آئی، لاجسٹکس اور گرین انرجی سیکٹر سے وابستہ 50 سے زائد عالمی کمپنیوں کے سی ای اوز کے ساتھ براہِ راست گفتگو کی۔ان کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو تقریباً 2.7 سے 3 ٹریلین ڈالر (تقریباً 250 لاکھ کروڑ روپے) ہے، جو بھارت کی مجموعی جی ڈی پی کے قریب مانی جا رہی ہے۔ ان کمپنیوں کی بھارت میں پہلے سے 180 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری موجود ہے، لیکن اب وہ چین سے اپنا کاروبار سمیٹ کر بھارت میں مزید تیزی سے توسیع کرنا چاہتی ہیں۔

’چائنا پلس ون‘ حکمتِ عملی کا نیا بادشاہ بنا بھارت

گزشتہ چند برسوں میں دنیا بھر کی بڑی کمپنیوں کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ مینوفیکچرنگ کے لیے صرف چین پر انحصار خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی ’چائنا پلس ون‘ حکمتِ عملی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پی ایم مودی نے ’میک اِن انڈیا‘ اور ’ڈیجیٹل انڈیا‘ کا ایسا مضبوط وژن پیش کیا کہ عالمی بورڈ رومز میں بھارت کی دھاک بیٹھ گئی۔کمپنیاں بھارت کی تیز رفتار اقتصادی ترقی، بڑھتی گھریلو کھپت اور مستحکم حکومتی پالیسیوں سے متاثر ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ 3.5 لاکھ کروڑ روپے کی اس سرمایہ کاری سے آئندہ 2 سے 3 برسوں میں بھارت میں ہائی ٹیک سیکٹرز میں لاکھوں نئی اور اعلیٰ تنخواہ والی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

یو اے ای کا 45 ہزار کروڑ کا بڑا داؤ

اس پوری اقتصادی سفارت کاری میں متحدہ عرب امارات (UAE) نے بھارت کے مستقبل پر سب سے بڑا داؤ لگایا ہے۔ یو اے ای نے اکیلے انفراسٹرکچر، بندرگاہوں، توانائی اور لاجسٹکس سیکٹر میں 5 ارب ڈالر (تقریباً 45 ہزار کروڑ روپے) کی نئی سرمایہ کاری کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ بھارت اور یو اے ای کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کے بعد یہ اب تک کا سب سے بڑا وعدہ مانا جا رہا ہے۔اس کے علاوہ جن شعبوں کو اس دورے سے سب سے زیادہ فائدہ پہنچنے والا ہے، ان میں سیمی کنڈکٹر چپس، مصنوعی ذہانت (AI)، گرین ہائیڈروجن اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر شامل ہیں، جہاں بھارتی حکومت پہلے ہی پی ایل آئی (PLI) اسکیم کے تحت بڑی مراعات دے رہی ہے۔

تیسری سب سے بڑی معیشت بننے کی جانب بھارت

سیاسی حلقوں میں اگرچہ حکومت کی اقتصادی پالیسیوں پر بحث جاری رہتی ہے، لیکن عالمی سرمایہ کاروں کے اس زبردست اعتماد نے واضح کر دیا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اپنی بلندی پر ہے۔ یہ سرمایہ کاری صرف سرمایہ ہی نہیں بلکہ مغربی اور خلیجی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی بھارت لائے گی۔اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تاریخی دورے سے بھارت کو جو عالمی سطح پر تقویت ملی ہے، وہ آئندہ چند برسوں میں جرمنی اور جاپان کو پیچھے چھوڑ کر بھارت کو دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت بنانے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read