Bharat Express DD Free Dish

Nepal Medicine Crisis: نیپال میں ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ کا خطرہ، بھارتی ادویات پر پابندی اور سخت نگرانی سے بحران مزید سنگین، بالین شاہ کی پالیسیوں پر اٹھے سوال

رپورٹ کے مطابق نیپال اپنی تقریباً 70 فیصد ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، جن میں 90 فیصد دوائیں بھارت سے آتی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ مہینوں میں بھارتی اور دیگر غیر ملکی ادویات پر غیر اعلانیہ پابندیوں اور سخت نگرانی نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب مقامی سطح پر تمام ضروری ادویات تیار ہی نہیں ہوتیں تو درآمدات محدود کرنا صحت کے نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

کٹھمنڈو: نیپال میں ادویات کی شدید قلت نے صحت کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسپتالوں میں زندگی بچانے والی دواؤں کی کمی کے باعث مریضوں اور ڈاکٹروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ ادویات کی درآمد سے متعلق حکومتی سختیوں نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ نیپال ڈرگ امپورٹرز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک میں بنیادی طبی سہولیات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس پورے معاملے میں نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ کی پالیسیوں اور حکومت کے قیمتوں سے متعلق سخت مؤقف کو بحران کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیپال اپنی تقریباً 70 فیصد ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، جن میں 90 فیصد دوائیں بھارت سے آتی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ مہینوں میں بھارتی اور دیگر غیر ملکی ادویات پر غیر اعلانیہ پابندیوں اور سخت نگرانی نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب مقامی سطح پر تمام ضروری ادویات تیار ہی نہیں ہوتیں تو درآمدات محدود کرنا صحت کے نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ نیپال کے وزیر اعظم بالین شاہ نے حالیہ دنوں میں مقامی صنعت کو فروغ دینے کے نام پر اسپتالوں اور فارمیسیوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ غیر ملکی ادویات کے بجائے مقامی مصنوعات کو ترجیح دیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نیپال کو صحت کے شعبے میں خود کفیل بنانا ضروری ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ طبی ماہرین کے مطابق مقامی کمپنیاں اب بھی بڑی تعداد میں اہم دوائیں تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، اس لیے بیرونی ادویات پر انحصار ناگزیر ہے۔

نیپال ڈرگ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر پون آچاریہ نے کہا کہ حکومت نے 117 ضروری ادویات کی قیمتیں منجمد کر رکھی ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں خام مال کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ڈالر کی مضبوطی اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث بھارت اور دیگر ممالک میں ادویات مہنگی ہو چکی ہیں، مگر نیپالی حکومت قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ درآمد کنندگان مہنگی دوائیں خرید کر سستے داموں فروخت نہیں کر سکتے، اس لیے کئی کمپنیاں ادویات منگوانے سے گریز کر رہی ہیں۔ ادویات کے بحران میں کسٹمز حکام کے رویے کو بھی ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ امپورٹرز کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق ادویات پر صرف 5 فیصد کسٹم ڈیوٹی لاگو ہونی چاہیے، لیکن بعض افسران بلوں کی جانچ کے نام پر 28 فیصد تک جرمانہ عائد کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق کینسر اور سی ٹی اسکین میں استعمال ہونے والے اہم انجیکشنز پر بھی اضافی ٹیکس لیا جا رہا ہے، جس سے ان کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بھارتی دوا ساز کمپنیوں نے بھی نیپال کی سخت پالیسیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کئی بھارتی ملٹی نیشنل کمپنیوں نے نیپال کو ادویات کی سپلائی میں دلچسپی کم کر دی ہے، کیونکہ وہاں کی پالیسیوں اور قیمتوں کے نظام کو غیر یقینی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نیپال کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہے، کیونکہ ملک کی صحت کا بڑا نظام بھارتی ادویات پر منحصر ہے۔ سیاسی حلقوں میں بھی بالین شاہ کی پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مقامی صنعت کے فروغ کا مقصد درست ہو سکتا ہے، لیکن صحت کے شعبے میں فوری خود انحصاری ممکن نہیں۔ ان کے مطابق اسپتالوں میں دواؤں کی قلت عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ عوامی حلقے بھی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بھارتی ادویات کی سپلائی بحال کرنے اور قیمتوں کے تنازعہ کو فوری حل کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ مریضوں کو مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read