نیپیڈاؤ: میانمار کے فوجی جنتا سربراہ من آنگ ہلائنگ (Min Aung Hlaing) کو ملک کا صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں تین نامزد امیدواروں میں سب سے زیادہ ووٹ ملے، جس کے بعد وہ باضابطہ طور پر صدر منتخب ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق ہلائنگ کے ساتھ دو نائب صدور بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ ان میں فوج کی جانب سے نامزد سابق وزیر اعظم نیو سو شامل ہیں، جو طویل عرصے سے ان کے وفادار مانے جاتے ہیں۔ دوسرے نائب صدر نان نی نی آئی ہیں، جو فوج کی حمایت یافتہ یونین سالیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (USDP) کی کرین ریاست کی سربراہ ہیں۔
کمانڈر اِن چیف کا عہدہ چھوڑا
صدارتی انتخاب سے چند دن قبل من آنگ ہلائنگ نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کا عہدہ چھوڑ دیا اور جنرل یی ون او کو اس منصب پر مقرر کیا۔ ڈیفنس سروسز کے کمانڈر اِن چیف کی ذمہ داریوں کی منتقلی کی تقریب پیر کے روز نیپیڈاؤ کے زیتھیری بیک مین میں منعقد ہوئی۔
پارلیمنٹ نے امیدوار نامزد کیا
سرکاری میانمار ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے مطابق پیر کے روز میانمار کے ایوان زیریں، پیتھو ہلوٹا نے من آنگ ہلائنگ کو نائب صدر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا تھا۔ میانمار کے آئین کے مطابق یونین پارلیمنٹ تین نائب صدر امیدواروں میں سے صدر کا انتخاب کرتی ہے۔
متنازع انتخابات کے بعد اقتدار
میانمار میں دسمبر 2025 اور جنوری 2026 کے دوران انتخابات منعقد ہوئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان انتخابات میں فوج کی حمایت یافتہ یونین سولیڈیرٹی اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے کامیابی حاصل کی، جبکہ بیشتر اپوزیشن جماعتوں کو انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا تھا۔
2021 کی فوجی بغاوت کے بعد اقتدار
من آنگ ہلائنگ 2021 سے میانمار پر حکمرانی کر رہے ہیں، جب انہوں نے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ پلٹ دیا تھا آنگ سان سوچی کی نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے 2015 اور 2020 کے دونوں انتخابات جیتنے کے بعد، من آنگ ہلائنگ نے دعویٰ کیا کہ والا ووٹ انتخابی دھوکہ دہی سے خراب ہوا تھا اور اس الزام کا استعمال کر کےانہوں نے تختہ پلٹنے کیا تھا۔
ہلائنگ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2020 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور اسی الزام کو بنیاد بنا کر فوجی بغاوت کی گئی۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ یہ اقتدار پر قبضہ نہیں بلکہ آئینی ’ہنگامی صورتحال‘ میں اٹھایا گیا ضروری قدم تھا۔
اپوزیشن لیڈران کی گرفتاری
اس وقت، انہوں نے کہا کہ یہ اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ آئینی ’ایمرجنسی کی حالت‘ کے درمیان ایک ضروری قدم اٹھایا گیا تھا۔ فوج کے قبضے کے بعد، میانمار کی جنتا نے 2020 کے انتخابات کے نتائج کو کالعدم قرار دے دیا، این ایل ڈی کو تحلیل کر دیا، اور آنگ سان سوچی، کابینہ کے ارکان، اور ہزاروں جمہوریت کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



