Bharat Express DD Free Dish

Ban on Tourist Visa Entry for Iranians: آسٹریلیا نے ایرانی شہریوں کے سیاحتی ویزا پر لگائی چھ ماہ کی پابندی

آسٹریلیائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت 7,000 سے زائد ایرانی شہریوں کے پاس سیاحتی ویزا موجود ہے۔

کینبرا: آسٹریلیا نے ایران کے شہریوں کے سیاحتی ویزا سے متعلق بڑا فیصلہ لیتے ہوئے چھ ماہ کی عارضی پابندی کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت وزیٹر ویزا رکھنے والے ایرانی شہریوں کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ نیا قانون جمعرات سے نافذ ہوگا۔

حکومت کا سکیورٹی خدشات کا حوالہ

آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ یہ قدم اس خدشے کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے کہ کچھ افراد ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی آسٹریلیا میں قیام کر سکتے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پابندی تمام ایرانی شہریوں پر لاگو نہیں ہوگی۔ جن افراد کے پاس طویل مدتی ویزا ہے یا جن کے خاندان آسٹریلیا میں مقیم ہیں، انہیں ملک میں داخلے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

سات ہزار سے زائد ویزا ہولڈرز متاثر

آسٹریلیائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کیونکہ عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت 7,000 سے زائد ایرانی شہریوں کے پاس سیاحتی ویزا موجود ہے۔

خصوصی اجازت نامہ بھی دیا جا سکتا ہے

وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ ضرورت کے مطابق کچھ افراد کو ’پرمیٹڈ ٹریول سرٹیفکیٹ‘ بھی جاری کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ مخصوص حالات میں سفر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں کشیدگی سے پہلے کئی وزیٹر ویزا جاری کیے گئے تھے، جو موجودہ حالات میں شاید جاری نہ کیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیائی حکومت عالمی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت کے مطابق امیگریشن پالیسی میں تبدیلی کرتی رہے گی۔

عارضی ویزا رکھنے والوں کی بڑی تعداد

اس ماہ کے آغاز میں حکام نے بتایا تھا کہ ایران میں 7,200 سے زائد افراد عارضی ویزا ہولڈر تھے، جبکہ کشیدگی سے متاثرہ وسیع علاقے میں یہ تعداد بڑھ کر 40,000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

صرف سب کلاس 600 ویزا پر پابندی

حکام کے مطابق یہ عارضی پابندی صرف سیاحتی ویزا رکھنے والوں پر لاگو ہوگی، جسے سب کلاس 600 ویزا بھی کہا جاتا ہے۔ اس فیصلے پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ڈیوڈ شوبرج، جو آسٹریلین گرینز پارٹی کے لیڈر ہیں، نے اس اقدام کو سخت اور غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قدم اس لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ ایرانی شہری آسٹریلیا آ کر پناہ کی درخواست نہ دے سکیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read