چنڈی گڑھ: پنجاب حکومت نے ریاست کے عوام کو بڑی راحت دیتے ہوئے مکھ منتری صحت یوجنا کے آغاز کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پنجاب کے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا مفت اور کیش لیس طبی علاج فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ بھگونت مان نے اس اسکیم کو جنوری سے نافذ کرنے کی ہدایت دی ہے، جب کہ اس کی رجسٹریشن کا عمل جلد شروع ہونے جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمۂ صحت کو اسکیم کے آغاز کے لیے تمام ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔وزیراعلیٰ بھگونت مان نے یاد دلایا کہ ستمبر میں انہوں نے ریاستی سطح پرہیلتھ انشورنس اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت پنجاب کے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کے کیش لیس علاج کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا فائدہ سی ایم ہیلتھ کارڈ کے ذریعے دیا جائے گا اور رجسٹریشن کا عمل فوری طور پرشروع کیا جائے گا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ چند دن پہلے حکومت نے اعلان کیا تھا کہ ریاست کے ہر خاندان کو 10 لاکھ روپے تک کا ہیلتھ انشورنس فراہم کیا جائے گا۔ سی ایم ہیلتھ کارڈ کے ذریعے عوام کو 10 لاکھ روپے تک کا کیش لیس علاج میسر ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اسکیم کے تحت پنجاب کا ہر شہری مفت اور بہتر طبی سہولت حاصل کر سکے گا۔وزیراعلیٰ مان نے بتایا کہ رجسٹریشن کا آغاز ترن تارن اور برنالہ اضلاع سے کیا جائے گا، جہاں دو سے تین دن کے لیے خصوصی ہیلتھ کیمپس قائم کیے جائیں گے۔ ان کیمپس میں شہریوں کی رجسٹریشن کی جائے گی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کا عمل نہایت آسان ہوگا اور اس کے لیے آدھار کارڈ، ووٹر کارڈ یا پاسپورٹ میں سے کسی ایک دستاویز کا استعمال کیا جا سکے گا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعلیٰ بھگونت مان نے لکھا کہ سی ایم ہیلتھ کارڈ کے تحت تقریباً دو ہزار طبی خدمات کے لیے معیاری علاج فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے بعد ریاست بھر کے لوگ اس کارڈ کے فوائد حاصل کر سکیں گے۔ اس اسکیم کے تحت سرکاری اسپتالوں کے ساتھ ساتھ ریاست کے بیشتر نجی اسپتالوں کو بھی جوڑا جائے گا، تاکہ عوام کو وسیع پیمانے پر بہتر اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




