دہلی میں چند روز پہلے ہوئے دھماکے پر مولانا مدنی سمیت کئی لوگوں کے بیان آ چکے ہیں، مگر معاملہ ابھی پوری طرح تھما بھی نہیں تھا کہ اب دارالحکومت میں ماؤنوازوں کی حمایت سامنے آنے لگی ہے۔ ملک کی مشہور ترین جگہ اور دنیا کی نگاہوں میں رہنے والے انڈیا گیٹ پر اتوار کو آلودگی کے خلاف احتجاج کے بہانے نکسلیوں کی حمایت کا مظاہرہ کیا گیا۔ دارالحکومت میں بگڑتے ہوئے AQI کے خلاف احتجاج کے لیے کئی لوگ جمع ہوئے، لیکن انہوں نے ماحولیات کے نام پر نکسلی کمانڈر مادوِی ہڈما کی موت کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ پولیس نے موقع سے 15 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
ہڈما کا اینکاؤنٹر
قابلِ ذکر ہے کہ ٹاپ نکسلی کمانڈر ’مادوِی ہڈما‘ کا 18 نومبر کو چھتیس گڑھ–آندھرا پردیش کی سرحد پر اینکاؤنٹر ہوا تھا۔ خفیہ اطلاع ملنے پر فورسز نے کارروائی کی، دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی۔ جب سرچ آپریشن کے بعد لاشیں برآمد کی گئیں تو چھ افراد کے مارے جانے کی تصدیق ہوئی، بعد میں انکشاف ہوا کہ ہڈما اور اس کی اہلیہ بھی مارے گئے ہیں۔
’ہر گھر سے ہڈما نکلے گا‘ کے نعرے
اتوار کی شام انڈیا گیٹ پر احتجاج کرنے والے کچھ افراد کے ہاتھوں میں ہڈما کے پوسٹر تھے۔ اس دوران ’کتنے ہڈما ماروگے‘ اور ’ہر گھر سے ہڈما نکلے گا‘ جیسے نعرے لگائے گئے۔ جب مظاہرین سڑک جام کرنے لگے تو پولیس نے انہیں ہٹانے کی کوشش کی، اسی دوران مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر مرچ اسپرے سے حملے کی کوشش کی۔
پولیس پر حملہ اور گرفتاری
مظاہرین نے احتجاج کے مقام سے ہٹائے جانے کے دوران مبینہ طور پر پولیس پر مرچ اسپرے سے حملہ کیا۔ معاملے میں دہلی پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 15 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی آر میں پولیس پر حملہ کرنے، سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے اور سڑک جام کرنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ڈی سی پی دیویش کمار کی تصدیق
نئی دہلی کے ڈی سی پی دیویش کمار مہلا نے کہا کہ پہلی بار کسی مظاہرے کے دوران پولیس اہلکاروں پر مرچ اسپرے کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ مظاہرین نے رکاوٹیں توڑ دیں اور سڑک پر بیٹھ گئے، جبکہ ان کے پیچھے کئی ایمبولینسیں اور طبی عملہ پھنسا ہوا تھا جنہیں فوری گزرنے کی ضرورت تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
