آرٹ کی دنیا میں منفرد شناخت رکھنے والے آسٹریائی مصور گستاو کلیمٹ کی ایک پینٹنگ نے تاریخ رقم کر دی۔ آرٹ نووو انداز کو نئی جہت دینے والے اس فنکار کی پینٹنگ پورٹریٹ آف الزابیتھ لیڈرر نیویارک میں 236.4 ملین ڈالر یعنی تقریباً 1965 کروڑ روپے میں نیلام ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی یہ دنیا کی دوسری سب سے مہنگی آرٹ ورک بن گئی ہے۔ اس سے قبل کلیمٹ کی لیڈی ود اے فین پینٹنگ لندن میں 108 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ نیویارک میں منعقدہ نیلامی میں کلیمٹ کی اس شاہکار پینٹنگ نے میرلِن منرو کی تصویر کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی مہنگی ترین پینٹنگز میں دوسرا مقام حاصل کر لیا۔ اس سے زیادہ قیمت پر صرف لیونارڈو دا ونچی کی تقریباً 1500 سال پرانی سلاویٹر مندی پینٹنگ فروخت ہوئی تھی، جو 2017 میں 450.3 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔

گستاو کلیمٹ کی نایاب پینٹنگ کی ریکارڈ فروخت، ایلزابیتھ لیڈرر کا پورٹریٹ 236.4 ملین ڈالر میں نیلام
آسٹریا کے معروف مصور گستاف کلیمٹ کا تخلیق کردہ فن پارہ ’’پورٹریٹ آف ایلزابیتھ لیڈرر‘‘ نیویارک میں 236.4 ملین ڈالر یعنی تقریباً 1965 کروڑ روپے میں نیلام ہوا اور دنیا کی دوسری سب سے مہنگی فروخت ہونے والی پینٹنگ بن گئی۔ اس سے قبل کلیمٹ کی ’’لیڈی ود اے فین‘‘ لندن میں 108 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی تھی۔ قیمت کے لحاظ سے اس سے آگے صرف لیونارڈو دا ونچی کی مشہور پینٹنگ ’’سلواتور مندی‘‘ ہے جو 2017 میں 450.3 ملین ڈالر میں نیلام ہوئی۔ یہ پینٹنگ ایلزابیتھ لیڈرر کا پورٹریٹ ہے، جسے کلیمٹ نے 1914 سے 1916 کے درمیان تخلیق کیا۔ ایلزابیتھ ویانہ کے ایک نہایت امیر اور بااثر یہودی خاندان، آگسٹ اور سرینا لیڈرر کی بیٹی تھیں۔ فن پارے میں مشرقی ایشیائی طرز کے آرائشی نمونے ایلزابیتھ کے اطراف گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جو اسے وقت اور مقام کی حدود سے ماورا ایک تخلیقی حسیت فراہم کرتے ہیں۔
نازیوں نے پینٹنگ کر لی تھی ضبط
1938 میں آسٹریا پر نازی قبضے کے بعد، کلیمٹ کے وہ تمام فن پارے جن کا تعلق لیڈرر خاندان سے تھا، ضبط کر لیے گئے۔ 1980 کی دہائی میں یہ تخلیقات دوبارہ منظر عام پر آئیں، جس کے بعد اس پورٹریٹ کو ارب پتی لیونارڈ اے لاؤڈر نے خرید لیا۔ جون 2025 میں ان کے انتقال کے بعد یہ فن پارہ دوبارہ نیلامی کے لیے پیش ہوا اور تاریخی قیمت پر فروخت ہو گیا۔
کیا ہوا تھا ایلزابیتھ کے ساتھ
کلیمٹ کی موت کے کئی سال بعد 1930 کی دہائی میں یہودی ہونے کے باعث ایلزابیتھ کو شدید خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے دعویٰ کیا کہ گستاو کلیمٹ—جو یہودی نہیں تھے—ان کے حیاتیاتی والد ہیں۔ ان کی والدہ سرینا نے بھی اس دعوے کی تصدیق کر دی، جس کے بعد نازی حکام نے اسے درست مانتے ہوئے ایلزابتھ اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا۔ یہ فن پارہ نہ صرف آرٹ کی دنیا میں اپنی غیر معمولی قیمت کے سبب اہم ہے بلکہ تاریخ کے پیچیدہ دور کی ایک انسانی کہانی اور فنکارانہ عظمت کی علامت بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


