Bharat Express DD Free Dish

Suspicious death of a teenager in Gwalior: گوالیار میں لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت، پولیس نے مکتی دھام سے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجا

لڑکی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ لڑکی کی موت بیماری کے باعث ہوئی ہے اور اس کی آخری رسومات ادا کی جانی ہیں۔ وہ ان معلومات کی بنیاد پر یہاں آئے ہیں۔ پولیس لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے آئی۔

گوالیار میں لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت۔

گوالیار: مدھیہ پردیش کے گوالیار میں ایک نو عمر لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی، جس کے بعد پولیس نے لاش کو جلانے سے پہلے پوسٹ مارٹم کرایا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق گوالیار کے اندر گنج تھانہ علاقہ کے خلاسی پورہ میں ایک 14 سالہ لڑکی کی مشتبہ حالات میں موت ہو گئی ہے۔ نوجوان کے اہل خانہ ابھی اس کی آخری رسومات ادا کرنے مکتی دھام پہنچے تھے کہ کسی کی اطلاع پر پولیس بھی مکتی دھام پہنچ گئی اور لڑکی کی لاش کو اپنے قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کروایا، تاکہ معلوم ہوسکے کہ لڑکی کی موت کی اصل وجہ کیا ہے۔

نامعلوم شخص نے لڑکی کی موت کی دی اطلاع

اہل خانہ کے مطابق لڑکی کو بیماری تھی اور اسے چکر آتا تھا۔ اندر گنج تھانے کی انچارج دیپتی تومر کا کہنا ہے کہ انہیں ایک نامعلوم شخص کا فون آیا تھا، جس میں لڑکی کی موت کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس بنیاد پر پولیس نے لاش کو اپنے قبضے میں لے لیا اور اس کا پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔

لڑکی کی لاش کو مکتی دھام لے جایا گیا تھا

بتایا گیا ہے کہ نو عمر لڑکی کی لاش کو آخری رسومات کے لیے مکتی دھام لے جایا گیا تھا۔ لڑکی کے اہل خانہ کے ساتھ رشتہ دار بھی موجود تھے۔ جب سب مکتی دھام پہنچے تو پولیس بھی پہنچ گئی۔ اہل خانہ یہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ آخر پولیس کیوں آئی اور پوسٹ مارٹم کیوں کرایا گیا ہے، کیونکہ اہل خانہ کی جانب سے پولیس سے کوئی شکایت نہیں کی گئی۔

لڑکی کے رشتہ داروں نے کیا بتایا؟

لڑکی کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں اطلاع ملی تھی کہ لڑکی کی موت بیماری کے باعث ہوئی ہے اور اس کی آخری رسومات ادا کی جانی ہیں۔ وہ ان معلومات کی بنیاد پر یہاں آئے ہیں۔ پولیس لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے لے آئی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read