آسام اور ناگالینڈ میں سرگرم دو علیحدگی پسند تنظیموں، یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام-انڈیپنڈنٹ (ULFA-I) اور نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (NSCN) یُنگ آؤنگ دھڑے نے 15 اگست کو ہندوستان کے یومِ آزادی کے بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے اس دن کو ’’بے معنی اور غیر متعلقہ‘‘ قرار دیا ہے۔ دونوں تنظیموں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ آزادی کی یہ ’’نام نہاد‘‘ تقریب ویسٹرن ساؤتھ ایسٹ ایشیا (WESEA) کے اصل باشندوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ واضح رہے کہ WESEA کا علاقہ آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ اور منی پور کے کچھ حصوں پر مشتمل ہے۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’’جس طرح برطانوی سامراجیوں نے اس خطے کو استحصال، جبر اور محرومی کا شکار بنایا، اسی طرح ہندوستان نے گزشتہ 79 برسوں سے اس علاقے کو نام نہاد آزادی کے نام پر ایک نوآبادیاتی قبضے میں رکھا ہوا ہے۔‘‘ علیحدگی پسند تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ہندوستان نے آزادی کے بعد بھی یہاں کے قبائلی و مقامی باشندوں کو صرف ’’فریب، ذلت اور استحصال‘‘ دیا ہے۔ ان کے مطابق آزادی کی سالگرہ منانا ان لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے جنھیں ریاستی پالیسیاں مسلسل حاشیے پر دھکیلتی آئی ہیں۔
انھوں نے اعلان کیا کہ 15 اگست کو پورے WESEA خطے میں مکمل بند (Bandh) کیا جائے گا اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس بند کو کامیاب بنانے کے لیے تعاون کریں۔ دونوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ بند یومِ آزادی کی تقریبات کے خلاف ’’علامتی مزاحمت‘‘ ہوگا۔ واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ULFA-I اور NSCN نے بھارت کے یومِ آزادی یا یومِ جمہوریہ کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہو۔ وہ ہر سال ان مواقع پر ایسے بیانات جاری کرتے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد ہر سال قومی تقریبات میں شرکت کرتی ہے اور قومی پرچم لہراتی ہے، جس سے علیحدگی پسندوں کے موقف کو عوامی حمایت حاصل نہ ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ وہیں ریاستی اور مرکزی حکومتیں ان بائیکاٹ کالز کو مسترد کرتے ہوئے سلامتی کے سخت انتظامات کرتی ہیں اور یہ واضح پیغام دیتی ہیں کہ بھارت کے آئین، اتحاد اور سالمیت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

