Bharat Express DD Free Dish

Former Jharkhand CM Shibu Soren dies at 81 after prolonged illness: جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ شیبو سورین کا 81 برس کی عمر میں انتقال، پی ایم مودی نے افسوس کا اظہار کیا

شیبو سورین نے دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ جون کے آخر میں انہیں گردوں سے متعلق مسائل کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور تب سے ان کا علاج جاری تھا۔

جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلیٰ شیبو سورین 81 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ انہوں نے دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں اپنی آخری سانس لی۔ جون کے آخر میں انہیں گردوں سے متعلق مسائل کے باعث اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور تب سے ان کا علاج جاری تھا۔

ان کے بیٹے اور موجودہ جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے والد کے انتقال کی تصدیق کی۔ شیبو سورین نے جھارکھنڈ کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کیا اور کئی برسوں تک ریاست کے وزیراعلیٰ رہے۔ ان کے انتقال سے سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔

انہیں صبح 8 بج کر 56 منٹ پر دہلی کے سر گنگا رام اسپتال میں مردہ قرار دیا گیا، جہاں وہ زیر علاج تھے۔ اسپتال کے ایک بیان کے مطابق، شیبو سورین گزشتہ ایک ماہ سے لائف سپورٹ پر تھے۔ وہ گردوں کی بیماری سے لڑ رہے تھے اور ڈیڑھ ماہ
قبل انہیں فالج کا دورہ بھی پڑا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”شری شیبو سورین جی ایک عوامی لیڈر تھے، جنہوں نے زمینی سطح سے عوامی زندگی میں اپنا مقام محنت اور عوام سے وابستگی کے ساتھ بنایا۔ وہ خاص طور پر قبائلی برادریوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے پُرعزم تھے۔ ان کے انتقال سے دکھ ہوا۔ میری دعائیں اور ہمدردیاں ان کے اہلِ خانہ اور چاہنے والوں کے ساتھ ہیں۔ میں نے جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ شری ہیمنت سورین جی سے بات کی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ اوم شانتی۔”

بھارت ایکسپریس اردو


بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read