پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلٹستان میں سیلاب کا قہر
کراچی: گلگت بلٹستان کے ضلع ڈائمر میں موسلا دھار بارش کے بعد آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی۔ بابوسر کے علاقے میں چار سیاحوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔ دو افراد زخمی جبکہ 15 افراد لاپتہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات گلگت بلٹستان میں دیکھے جا رہے ہیں جہاں بادل پھٹنے سے آنے والے سیلاب نے پورے خطے میں تباہی مچا دی۔ گلگت بلٹستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے بتایا کہ تھاک کے علاقے میں سیلاب سے آٹھ سیاحوں کی گاڑیاں بہہ گئیں۔
علاقے میں مواصلات اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر
فیض اللہ فراق نے تقریباً 15 سیاحوں کے لاپتہ ہونے کی تصدیق کی ہے۔ ان کے علاوہ اب تک چار لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل ہے، جو پنجاب کے علاقے لودھراں کی رہائشی تھی۔ زخمیوں اور ہلاک شدگان کو مقامی اسپتال بھیج دیا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بابوسر ہائی وے بھی سیلاب کے باعث بند ہے۔ علاقے میں مواصلات اور بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہے۔
خوفناک سیلاب کے سبب صورتحال انتہائی تشویشناک
سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) عبدالحمید نے پاکستان کے معروف اخبار ’ڈان‘ کو بتایا کہ خوفناک سیلاب کی وجہ سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ سیلاب سے تقریباً سات کلومیٹر کا علاقہ متاثر ہوا ہے۔ وہیں، وزیر اعلیٰ گلگت بلٹستان نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ لوگوں کو بچانے اور ان کی مدد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ اس شدید سیلاب نے زرعی اراضی، فصلوں، درختوں اور سرکاری و نجی املاک کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔
ملک کے مختلف حصوں سے قریب 30 سیاح لاپتہ
ایس ایس پی عبدالحمید کا اندازہ ہے کہ اس وقت ملک کے مختلف حصوں سے 20 سے 30 سیاح لاپتہ ہو سکتے ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں ان کی تلاش میں مصروف ہیں، حالانکہ مسلسل بارش کی وجہ سے ریسکیو مشن میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔ اس سیلاب سے شاہراہ قراقرم کے ایک حصے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ جس کی وجہ سے سیکڑوں سیاح دونوں طرف پھنسے ہوئے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


