نئی دہلی – ہندوستان میں اشیاء و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کے آٹھ سال مکمل ہو گئے ہیں۔ یکم جولائی 2017 کو نافذ ہونے والے اس ٹیکس نظام نے ملک کے بکھرے ہوئے، پیچیدہ بالواسطہ ٹیکس نظام کو ‘ایک ملک، ایک ٹیکس’ کے اصول پر قائم متحدہ فریم ورک میں تبدیل کر دیا، جس کا مقصد کاروبار اور صارفین دونوں کے بوجھ کو کم کرنا اور معیشت میں شفافیت لانا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جی ایس ٹی کو “گڈ اینڈ سمپل ٹیکس” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ نظام ایک دن دنیا بھر کے لیے ایک ماڈل کے طور پر جانا جائے گا۔

جی ایس ٹی کے اس آٹھ برس کے سفر میں کیا کچھ حاصل ہوا اور کیا رہیں اہم کامیابیاں اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
متحدہ قومی بازار
جی ایس ٹی نے 17 مرکزی اور ریاستی ٹیکسز اور 13 سیسز کو ختم کرکے پورے بھارت میں ایک ہموار قومی منڈی قائم کی، جس سے نہ صرف کاروبار آسان ہوا بلکہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
مرکز اور ریاست کے مابین شراکت
یہ نظام مرکز اور ریاستوں کے درمیان شراکت داری پر مبنی ہے، جس میں CGST، SGST اور بین ریاستی لین دین کے لیے IGST شامل ہے۔
صارفین کے لیے فائدے
منزل پر مبنی ٹیکس وصولی، ان پٹ ٹیکس کریڈٹ، اور خدمات و مصنوعات کی سلسلہ وار پیداوار پر ٹیکس بوجھ میں کمی کے باعث صارفین کو قیمتوں میں شفافیت اور کمی کا فائدہ ہوا۔
کاروباری آسانی
کمپوزیشن اسکیم، حد سے چھوٹ، آن لائن رجسٹریشن و فائلنگ اور سادہ ریٹرن جیسے اقدامات نے خاص طور پر ایم ایس ایم ای سیکٹر کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔
شفافیت اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام
ای-انوائسنگ، ای-وے بل، QR کوڈز اور GSTN پورٹل کے ذریعے ڈیجیٹل تعاملات نے ٹیکس چوری میں کمی اور محصولات میں اضافہ ممکن بنایا۔
نمایاں فیصلے اور اصلاحات
ای وے بل اور ای انوائسنگ: نقل و حمل پر نگرانی اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے متعارف۔
رعایتی شرحیں: سستے گھروں، الیکٹرک گاڑیوں اور طبی سامان پر جی ایس ٹی میں نمایاں کمی۔
کووڈ کے دوران ریلیف: ضروری اشیاء پر جی ایس ٹی میں نرمی۔
ریاستوں کو مضبوط مالی خودمختاری: 2019 سے 2024 کے درمیان ریاستوں کی آمدنی 3.5 لاکھ کروڑ سے بڑھ کر 46.56 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچی۔
شاندار محصولات
2024-25 میں ریکارڈ کلیکشن: 22.08 لاکھ کروڑ روپے کی جی ایس ٹی وصولی، سال بہ سال 9.4 فیصد اضافہ۔
ریٹرن فائلنگ میں بہتری: اب تک 162 کروڑ سے زائد جی ایس ٹی ریٹرن فائل ہو چکے ہیں۔
رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد: ابتدائی 78 لاکھ سے بڑھ کر 1.52 کروڑ (مئی 2025 تک)۔
اعتماد کا اظہار: ڈیلوئٹ سروے کے مطابق 85% کاروباری ادارے جی ایس ٹی سے مطمئن ہیں۔
جی ایس ٹی اور معیشت
کاروباری لاگت میں کمی: ریاستی سرحدوں پر انتظار کم، نقل و حمل میں 33 فیصد تیزی، اور اوسط فاصلہ 300+ کلومیٹر۔
عالمی سطح پر بھارت کی بہتری
لاجسٹکس انڈیکس میں رینکنگ 44 سے 38 (2023)
Ease of Doing Business انڈیکس میں 142 سے 63 تک چھلانگ (2019)
ایم ایس ایم ای کے لیے خصوصی فوائد
جی ایس ٹی سے چھوٹ کی حد کو 20 لاکھ سے بڑھا کر 40 لاکھ روپے تک کیا گیا۔
کمپوزیشن اسکیم کے تحت 1.5 کروڑ (اشیاء) اور 50 لاکھ (خدمات) تک کے کاروبار والے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
سہ ماہی ریٹرن اور سالانہ فائلنگ کا آپشن دیا گیا۔
مستقبل کا راستہ
جی ایس ٹی ایپیلٹ ٹربیونلز کے قیام، آسان ریٹرن، ایمنسٹی اسکیم، اور بی 2 سی ای-انوائسنگ جیسے اقدامات نظام کو مزید فعال، شفاف اور کاروبار دوست بنا رہے ہیں۔
آٹھ سال کے اس سفر میں، جی ایس ٹی نے نہ صرف ہندوستان کی اقتصادی گورننس کا نقشہ بدلا بلکہ ایک متحرک، ڈیجیٹل اور عوام دوست ٹیکس نظام کی بنیاد رکھی۔ جیسے جیسے یہ نظام نویں سال میں داخل ہو رہا ہے، یہ واضح ہے کہ جی ایس ٹی کاروباری سہولت، شفاف عمل درآمد، اور اقتصادی شمولیت کو فروغ دیتا ہوا ملک کی ترقی کا اہم ستون بن چکا ہے۔
بشکریہ پریس انفارمیشن بیورو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



