مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اتوار کو ایک اہم میٹنگ کرتے ہوئے ہونے والی مردم شماری کی تیاریوں کا جائزہ لیا اور اہم معلومات شیئر کیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ملک میں 16ویں مردم شماری کا نوٹیفکیشن کل (پیر) کو جاری کیا جائے گا۔ اس بار مردم شماری خاص ہوگی کیوں کہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کی جائے گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ مردم شماری کی اس بڑی مہم کو کامیابی سے مکمل کرنے کے لیے 34 لاکھ شمار کنندگان اور نگرانوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 1.3 لاکھ مردم شماری افسران کی ٹیم اس کام میں شامل ہوگی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس بار مردم شماری مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کی جائے گی، جس میں جدید موبائل ڈیوائسز استعمال کی جائیں گی۔
Reviewed the preparations for the 16th Census with senior officials.
Tomorrow, the gazette notification of the census will be issued. The census will include caste enumeration for the first time. As many as 34 lakh enumerators and supervisors and around 1.3 lakh census… pic.twitter.com/wkvJda7J4e
— Amit Shah (@AmitShah) June 15, 2025
مردم شماری سے متعلق اہم نکات:
– یہ ملک کی 16ویں مردم شماری ہو گی۔
– پہلی بار ذات کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے گا، جس سے پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔
– پورا عمل ڈیجیٹل ہوگا – ڈیٹا موبائل ایپ کے ذریعے جمع کیا جائے گا۔
– اس میں تعلیم، روزگار، رہائش، آمدنی، سہولیات اور سماجی حیثیت سے متعلق تفصیلی معلومات لی جائیں گی۔
وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ ملک میں ذات پات پر مبنی مردم شماری کا ایک دیرینہ مطالبہ تھا، خاص طور پر سماجی انصاف کی وکالت کرنے والی تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے۔ اب اس فیصلے کو مرکزی حکومت کا بڑا اقدام مانا جا رہا ہے۔ مردم شماری 2025 کی اس مہم کو ملک کے سماجی تانے بانے کو سمجھنے اور پالیسی سازی کو مزید جامع بنانے کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
