کرناٹک کی کروار بندرگاہ پر روکا گیا پاکستانی شہری
کروار: کرناٹک کے کروار میں ایک پاکستانی شہری کو ہندوستانی سرحد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ پورٹ حکام نے پاکستانی شہری کو جہاز سے اترنے سے روکا اور اس کا موبائل فون اور دستاویز قبضے میں لے لیا۔
بھارتی کوسٹ گارڈ ذرائع کے مطابق ایک پاکستانی شہری کو کرناٹک کی کروار بندرگاہ پر بھارت میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ وہ کارگو شپ ایم ٹی آر اوشین پر سوار تھا جو عراق سے بٹومین لے کر آ رہا تھا۔ جہاز پر عملے کے 18 ارکان سوار تھے جن میں 15 ہندوستانی، 2 شامی اور ایک پاکستانی شہری تھا۔
انہوں نے کہا کہ بندرگاہ کے حکام نے فوری طور پر پاکستانی شہری کو جہاز سے اترنے سے روک دیا اور اس کا موبائل فون اور دستاویزات قبضے میں لے لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ساحلی پولیس کو بھی اس معاملے کی اطلاع دی گئی۔ حالانکہ، جہاز کو سامان اتارنے کی اجازت دی گئی اور دو دن بعد شارجہ کے لیے روانہ ہو گیا۔
بھارتی حکام نے دوہرایا کہ پاکستان اور چین کے جہازوں کو بھارتی بندرگاہوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ 22 اپریل کو، کچھ دہشت گردوں نے پہلگام کی وادی بیسرن میں معصوم سیاحوں کو نشانہ بنایا، جس میں 25 ہندوستانی اور ایک نیپالی شہری کی ہلاکت ہو گئی۔ سیاحوں نے بتایا تھا کہ دہشت گردوں نے انہیں چن چن کر گولی ماری تھی۔
حملے کے ایک دن بعد، 23 اپریل کو، وزیراعظم کی سربراہی میں کابینہ کی سیکورٹی کمیٹی (CCS) کے ایک ہنگامی اجلاس میں پاکستان ہائی کمیشن کو بند کرنے اور سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اٹاری انٹیگریٹڈ چیک پوسٹ کو فوری طور پر بند کرنے اور سارک ویزہ استثنیٰ اسکیم (SVES) کے تحت پاکستانی شہریوں کو بھارت آنے کی اجازت نہ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستان میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹوں کے اندر ہندوستان چھوڑنے کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


