اترپردیش کے ریاستی وزیررگھوراج نے ہولی پر مسلم مردوں کوخواتین کی طرح حجاب پہننے کا مشورہ دیا، جس کے بعد ان کے بیان سے متعلق سیاسی ہنگامہ مچ گیا ہے۔ ہولی اور جمعہ سے متعلق کئی طرح کے ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ اس درمیان معروف کتھا واچک دیوکی نندن ٹھاکر کی بھی اس تنازعہ میں انٹری ہوگئی ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں دیوکی نندن ٹھاکر نے کہا کہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ایسے حالات کیوں ہیں۔ محبت دونوں طرف سے ہوگی۔ یہ ایک طرف سے نہیں ہوسکتی ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے مہو حادثہ پر انہوں نے کہا کہ آگے حالات مزید خراب ہوں گے۔
دیوکی نندن ٹھاکرنے کہا کہ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ایسے حالات کیوں ہیں؟ محبت دونوں طرف سے ہوگی، ایک طرف سے نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے مہو میں بھی چمپئنز ٹرافی میں ہندوستان کی جیت کے بعد ہوئے تشدد سے متعلق تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو صرف شروعات ہے، آگے حالات مزید خراب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا حل صرف سناتن بورڈ بنانے میں ہی ہے۔ تبھی صورتحال کنٹرول میں رہے گی۔
ہولی اور جمعہ تنازعہ پر کیا کہا؟
کتھا واچک دیوکی نندن ٹھاکرنے اس دوران آرایس ایس کے سربراہ دتاترے ہوسبولے کے ہندوستان والے بیان کی بھی حمایت کی اور کہا کہ یہ ہمارا پرانا مطالبہ رہا ہے۔ ہمارے ملک کا قدیم نام بھارت ہے، اس لئے صرف بھارت کا نام استعمال کیا جائے۔ دراصل، آرایس ایس لیڈر نے ایک پروگرام کے دوران بات کرتے ہوئے ملک کو دوناموں بھارت اورانڈیا سے پکارے جانے پرسوال اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سوال اٹھانا چاہئے کہ ملک کو دو ناموں سے کیوں جانا جا رہا ہے۔ اس کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ملک کا نام بھارت ہے توصرف بھارت کہیں۔
واضح رہے کہ اس بار ہولی کا تہواراورجمعہ ایک ہی دن پڑ رہے ہیں، جسے لے کرسنبھل کے سی اوانوج چودھری نے کہا کہ ہولی سال میں ایک بارآتا ہے اور جمعہ 52 بار آتا ہے، جسے رنگوں سے پریشانی ہے وہ اپنے گھرمیں رہے۔ سنبھل سی او کے اس بیان کی وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی حمایت کی۔ وہیں یوپی کے ریاستی وزیررگھوراج سنگھ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے کہا کہ اگر رنگوں سے پریشانی ہے تو مسلم بھی خواتین کی طرح ترپال کا حجاب پہن لیں، جس کے بعد ان بیانات سے متعلق سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


