ہزاری باغ کے سابق ایس ڈی او رانچی سے گرفتار
ہزاری باغ: ہزاری باغ کے سابق ایس ڈی او اشوک کمار، جس پر اپنی بیوی کو جلا کر ہلاک کرنے کا الزام ہے، بالآخر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ رانچی کے جگن ناتھ پور تھانے میں چھپا ہوا تھا۔ ہزاری باغ صدر سب ڈویژن کے ایس ڈی پی او امت آنند نے اس کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ اسے رانچی سے ہزاری باغ لایا جا رہا ہے۔ اسے پیر کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
سابق ایس ڈی او اشوک کمار کی بیوی انیتا کماری گزشتہ سال 26 دسمبر کو ہزاری باغ میں واقع اپنی کی سرکاری رہائش گاہ میں مشتبہ حالات میں لگنے والی آگ میں بری طرح جھلس گئی تھیں۔ بعد میں رانچی کے ایک اسپتال میں علاج کے دوران ان کی موت ہوگئی۔ اس معاملے میں انیتا کماری کے بھائی راجو کمار گپتا نے ایس ڈی او اور اس کے اہل خانہ پر ان کی بہن کو زندہ جلانے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
الزام تھا کہ ملزم ایس ڈی او کے دوسری خاتون سے ناجائز تعلقات تھے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی پر تشدد کرتا تھا۔ اس سے پہلے ایس ڈی او کی بیوی نے بھی اپنے شوہر پر ہراساں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ ہزاری باغ شہر میں مہلوک کے لواحقین اور مقامی لوگوں نے اس واقعہ کو لے کر لوہاسنگنا پولیس اسٹیشن کا گھیراؤ کیا اور کئی گھنٹے تک احتجاج کیا۔ واقعہ کے سامنے آنے کے بعد جھارکھنڈ حکومت نے اسے اس عہدے سے ہٹا کر رانچی میں انتظامی اصلاحات اور دفتری زبان کے محکمے میں بھیج دیا تھا۔ یہاں پوسٹنگ ہونے کے بعد وہ مسلسل چھٹی پر چل رہا تھا۔
معاملہ بڑھنے کے بعد جھارکھنڈ کے ڈی جی پی نے نوٹس لیا اور اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ ملزم اشوک کمار نے گرفتاری سے بچنے کے لیے ہزاری باغ ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیشگی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، لیکن عدالت نے 31 جنوری کو اس کی درخواست مسترد کر دی۔ دو دن قبل پولیس نے اس معاملے میں شریک ملزم اشوک کمار کے باپ کو بھی گرفتار کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


