Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Polls

سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔

ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔

بی جے پی نے اپنے منشور کو ’سونار بنگلہ‘ کا نام دیتے ہوئے روزگار، خواتین کے لیے ریزرویشن اور فلاحی اسکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی نے اسے کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 200 سے زائد نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔