West Bengal polls: ’’مغربی بنگال میں عوام نے اپنی مرضی سے نہیں بلکہ دباؤ میں دیا ووٹ‘‘ اکھلیش یادو نے ممتا بنرجی سے کی ملاقات، کہا-’’دیدی، آپ ہاری نہیں ہیں‘‘
سماجوادی پارٹی سربراہ نے دعویٰ کیا کہ انتخابات کے دوران مغربی بنگال میں تین لاکھ سے زیادہ مرکزی فورسز تعینات کی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش اور بہار سے بڑی تعداد میں فورسز کو انتخابی ڈیوٹی کے لیے مغربی بنگال لایا گیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب اتر پردیش میں انتخابات ہوں گے تو وہاں بنگال، آسام، ناگالینڈ اور اروناچل پردیش سے فورسز بھیجی جائیں گی۔
Mamata Banerjee Vs Amit Shah: طنز سے تختہ پلٹ تک! جب دیدی نے 2014 میں امت شاہ کا اڑایا تھا مذاق، 2026 میں اکھاڑ پھینکا ٹی ایم سی کا قلعہ
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج محض ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی اور مستقل محنت کا نتیجہ ہیں۔ بی جے پی نے گزشتہ برسوں میں نہ صرف اپنی تنظیم کو مضبوط کیا بلکہ عوامی مسائل کو بھی مؤثر انداز میں اٹھایا، جس کا فائدہ اسے اب ملتا دکھائی دے رہا ہے۔
West Bengal Election Results: بنگال انتخابات 2026 میں مرکزی فورسز کا کلیدی کردار، سی آر پی ایف کی تعیناتی سے تشدد اور مبینہ دھاندلی پر قابو پانے کے دعوے
ماضی میں مغربی بنگال کے انتخابات اکثر تشدد، بوتھ کیپچرنگ اور ’چھپا ووٹ‘ جیسے الزامات کی وجہ سے خبروں میں رہتے تھے۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات اور 2023 کے پنچایت انتخابات کے بعد سامنے آنے والی پرتشدد تصاویر نے اس تاثر کو مزید مضبوط کیا تھا کہ ریاست میں آزادانہ ووٹنگ ایک بڑا چیلنج ہے۔ تاہم 2026 کے انتخابات میں صورتحال مختلف نظر آئی، جہاں مرکزی فورسز کی موجودگی نے انتخابی ماحول کو نسبتاً پُرامن بنانے میں کردار ادا کیا۔
Sonar Bangla Vs Bohiragoto: ’سونار بنگلہ‘ بمقابلہ ’بوہیراگوتو‘: مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر ووٹنگ آج
بی جے پی نے اپنے منشور کو ’سونار بنگلہ‘ کا نام دیتے ہوئے روزگار، خواتین کے لیے ریزرویشن اور فلاحی اسکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی نے اسے کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 200 سے زائد نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی۔
West Bengal Assembly Polls: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات: ڈپٹی الیکشن کمشنر کی قیادت میں اعلیٰ سطحی میٹنگ، سکیورٹی انتظامات اور انتخابی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اس بار مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں مجموعی طور پر 2,926 امیدوار میدان میں ہیں۔ پہلے مرحلے میں 152 نشستوں پر 1,478 امیدوار مقابلہ کریں گے، جبکہ دوسرے مرحلے میں 142 نشستوں پر 1,448 امیدوار اپنی قسمت آزمائیں گے۔ پولنگ دو مرحلوں میں 23 اپریل اور 29 اپریل کو ہوگی، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔





