Yaad-e-Bismillah: ممبئی میں ’یادِ بسم اللہ‘ کے سُروں سے گونجا استاد بسم اللہ خان کا اَمر سنگیت
تقریب کی شروعات بنارس گھرانے کی نامور گلوکارہ ڈاکٹر سوما گھوش نے اپنی گائیکی سے کی۔ اپنی دلکش اور پُراثر آواز سے انہوں نے راگوں کی ایسی بناوٹ بنی کہ پورا ہال تالیوں کی گڑگڑاہٹ سے گونج اُٹھا۔ اس کے بعد اونکار اگنی ہوتری، اکشرا ویاس اور رِشیکیش کرمکار نے ایک ٹرایو کے طور پر اپنی سُریلی پیشکش دے کر سامعین کے دل جیت لیے۔
Ustad Bismillah Khan; A Magician of Shehnai: شہنائی کے جادوگر استاد بسم اللہ خان کو تھی بنارس سے بے حد محبت،’میری گنگا کہاں سے لاؤ‘ گے کہہ کر ٹھکرا دی تھی امریکی پیشکش
ایک باصلاحیت فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ایک سچے بنارسی بھی تھے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جب آپ کو سچی دھن مل جائے تو سمجھ لیجئے کہ ہم بابا وشواناتھ کی پناہ میں پہنچ گئے ہیں۔ کاشی وشواناتھ مندر ہو یا بالاجی مندر یا گنگا گھاٹ، یہاں شہنائی بجانے میں ایک الگ ہی سکون ملتا ہے۔
Ustad Bismillah Khan’s Birth Anniversary: بھارت رتن استاد بسم اللہ خان کو جیکی شراف نے کیا یاد، کہا- آپ ہمیشہ دلوں میں رہیں گے
استاد بسم اللہ خان کے ماموں اور گرو علی بخش صاحب بالاجی مندر میں شہنائی بجاتے تھے اور وہیں پریکٹس بھی کرتے تھے۔ یہیں انہوں نے بسم اللہ خان کو شہنائی سکھانا شروع کی۔ بسم اللہ خان بھی اپنے ماموں کے ساتھ پریکٹس کے لیے مندر جایا کرتے تھے۔
Ustad Bismillah Khan: ‘میری گنگا کہاں سے لاؤ گے’، جب استاد بسم اللہ خان کو امریکہ میں آباد ہونے کی ہوئی تھی پیشکش
استاد بسم اللہ خان کو ہندوستان کے چاروں اعلیٰ ترین سول اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ انہیں پدم شری (1961)، پدم بھوشن (1968)، پدم وبھوشن (1980) اور 2001 میں بھارت رتن سے نوازا گیا۔





