UP Assembly Election 2027: یوپی میں بی جے پی کی ہیٹ ٹرک پر بحران؟ 128 ارکان اسمبلی کا کٹے گا پتہ، یوگی کے کتنے وزرا فہرست میں؟
UP Assembly Election 2027: اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے بی جے پی نے 403 نشستوں پر خفیہ سروے کرایا ہے۔ رپورٹ میں 128 ارکان اسمبلی کے خلاف اینٹی انکمبنسی کے آثار سامنے آئے ہیں۔
UP Assembly Election 2027: ’’کوئی اتنی آسانی سے توہین نہیں کر سکتا‘‘، اکھلیش پر برہم جینت چودھری، پی ڈی اے پر بھی اٹھائے سوال
اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 سے قبل سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ راشٹریہ لوک دل (RLD) کے صدر جینت چودھری نے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کی سیاست اور ان کے ’’ پی ڈی اے ‘‘ فارمولے پر سوال اٹھاتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
UP Assembly Elections: اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027: کانگریس اور سماج وادی پارٹی مل کر میدان میں اتریں گی، سیٹوں کی تقسیم پر اہم پیش رفت
اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے اتحاد کے امکان پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اور سماج وادی پارٹی کا اشتراک ایک فطری سیاسی اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے دونوں جماعتیں مل کر جدوجہد کریں گی اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گی۔
Defence Minister Rajnath Singh In Lucknow On Three Day Visit : تین روزہ دورے پر لکھنؤ پہنچے راج ناتھ سنگھ ، برہموس سے لے کر اسپتال تک کی دیں گے تحائف
مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ جمعہ کو اپنے پارلیمانی حلقہ لکھنؤ پہنچے۔ اس دوران وہ کئی اہم تقاریب میں شرکت کریں گے۔ اس بار وہ زیادہ سیاسی تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں۔ وہ 2027 کے انتخابات کی تیاری کر رہے ہیں۔
Mayawati Holds Meeting To Discuss Poll Strategy : اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2027 کی کریں تیاری، جھوٹے الزامات اور اپوزیشن کے پروپیگنڈے سے رہیں ہوشیار – مایاوتی
بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے لکھنؤ میں ریاستی سطح کا جائزہ اجلاس منعقد کیا اور افسران سے کہا کہ سبھی کو 2027 کے اسمبلی انتخابات کی تیاری ابھی سے شروع کر دینی چاہئے اور متحد ہوکر بہوجن سماج کی آواز کو بلند کریں۔
UP Politics: کیا سماجودای پارٹی یوپی میں کانگریس کا ساتھ چھوڑ سکتی ہے؟ 2027 کے انتخابات میں صرف اتنی سیٹیں چھوڑنے کے لئے تیار!
لوک سبھا انتخابات کے بعد انڈیا الائنس کو کئی ریاستوں میں ہوئے انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کی وجہ سے اتحاد کے اندر سے وقتاً فوقتاً احتجاج کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔





