Bharat Express DD Free Dish

Top Maoist Leader

سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسر بیسرا کی گرفتاری ماؤ نواز تنظیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ وہ تنظیم کی حکمت عملی تیار کرنے والے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتا تھا۔ گزشتہ چند برسوں میں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ میں مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں کئی اہم ماؤ نواز کمانڈر یا تو مارے جا چکے ہیں یا گرفتار کیے جا چکے ہیں

چھتیس گڑھ کے نکسلی متاثرہ ضلع دھمتری سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جہاں پانچ لاکھ روپے کی انعامی خاتون نکسلی نے ہتھیار ڈال کر خود کو قانون کے حوالے کر دیا ہے۔ ماؤ وادی تنظیم کی سرگرم رکن گیتا نے دھمتری کے پولیس سپرنٹنڈنٹ آفس پہنچ کر باقاعدہ طور پر سرنڈر کیا۔

بھارت میں ماؤ نواز یا نکسلی تحریک، جو کبھی ”جنگ آزادی“ اور ”انقلاب“ کے نظریے پر مبنی تھی، آج اندرونی بحران، نظریاتی انتشار اور قیادت کے فقدان کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔بھوپتی اور ستیش، دونوں تنظیم کے تجربہ کار حکمت عملی اور فیلڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے کیڈر تھے۔ ان کی خودسپردگی نے تنظیم کے نچلے سطح کےکیڈروں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

ماؤ نواز تشدد کو ترقی مخالف قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، "ماؤ نواز دہشت گردی کا بحران اپنے اختتام کے قریب ہے اور ہندوستان جلد ہی اس خطرے سے آزاد ہو جائے گا۔ پہلے 125 اضلاع متاثر تھے لیکن اب صرف 11 رہ گئے ہیں"۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق یہ کارروائی نکسلیوں کی مغربی بیورو شاخ کو خاص طور پر نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھی، جو اوڈیشہ اسٹیٹ کمیٹی کے تحت کام کرتی ہے۔