Bharat Express DD Free Dish

Strait of Hormuz Tensions

ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا کہ ”ہم جلد اپنی جیت کا جشن منائیں گے اور وہ تمام پابندیاں اور دباؤ ختم ہو جائیں گے جو برسوں سے ہمارے ملک پر مسلط ہیں“۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اپنی معیشت کو دوبارہ مستحکم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اصلاحات کر رہا ہے اور قومی سطح پر خود انحصاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی آمد و رفت کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ شروع کیا تھا۔ تاہم امریکی میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز میں تقریباً 1600 جہاز اب بھی پھنسے ہوئے ہیں اور ٹرمپ کا یہ منصوبہ صرف 48 گھنٹے ہی چل سکا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں ڈیل کا ابتدائی خاکہ بتایا گیا ہے، لیکن حتمی فیصلہ مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی ’’کم قیمت‘‘ چکائی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ دوبارہ ایران پر حملہ کر سکتا ہے، تو انہوں نے براہ راست جواب دینے سے گریز کیا، تاہم اشارہ دیا کہ یہ آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔