Bharat Express DD Free Dish

startup ecosystem

 اس پروگرام میں 120 سے زائد بھارتی ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس اور 15 سے زیادہ ممتاز اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارے، جن میں آئی آئی ٹیز بھی شامل ہیں، شرکت کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کانکلیو بھارت کے لیے اپنی جدید تکنیکی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے، بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے اور نئی شراکت داریاں قائم کرنے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔

نیس میں وینچر کیپیٹلسٹس، اسٹارٹ اپ رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے تبادلۂ خیال۔ بھارت کی ڈیپ ٹیک صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی تیاری۔ یہ دورہ 2014 کے بعد فرانس کا وزیراعظم مودی کا ساتواں سرکاری دورہ ہے۔ نیس میں قیام کے دوران وہ صدر میکرون کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے، جن میں فروری میں طے پانے والی خصوصی عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کے بعد ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

وزیراعظم کے اس دورے کو بھارت کی عالمی سفارتی سرگرمیوں، اختراعی صلاحیتوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ’’بھارت اِنووویٹس‘‘ اور ویوا ٹیک میں شرکت سے بھارت کو عالمی اختراع، ڈیجیٹل تبدیلی اور اسٹارٹ اپ کلچر کے ایک بڑے مرکز کے طور پر پیش کرنے کا موقع ملے گا۔

ونود کھوسلا نے کہا کہ بھارت میں ہونے والا اے آئی سمٹ مصنوعی ذہانت کے فوائد پر بات چیت کا ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے آئی خاص طور پر آبادی کے اس حصے کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتی ہے جسے علمی معیشت تک کم رسائی حاصل ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی خدمات عام لوگوں تک ان کی زبان اور ان کی سطح پر پہنچانے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

گزشتہ ایک دہائی میں بھارت کے اسٹارٹ اپ شعبے نے غیر معمولی رفتار سے ترقی کی ہے اور آج ملک عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ملک کے سرکردہ اسٹارٹ اپ بانیوں کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی مستحکم پالیسیوں، ’اسٹارٹ اپ انڈیا‘ جیسے انقلابی اقدام، حکومتی تعاون اور مضبوط کاروباری ماحول نے نہ صرف نوجوانوں کی سوچ بدلی ہے بلکہ بھارت کو عالمی سرمایہ کاری کا پسندیدہ ملک بھی بنا دیا ہے۔

کانکلیو کا سب سے اہم لمحہ ’بہار @2047 وژن ڈاکیومنٹ‘ کا اجرا رہا۔ یہ دستاویز پٹنہ میں منعقدہ گزشتہ سمٹ میں تیار کی گئی تھی، جسے بنگلور میں ماہرین کی آرا اور تفصیلی غور و فکر کے بعد حتمی شکل دی گئی۔

سرمایہ کاروں کے بعض زمروں کو ایک محدود ریلیف دیا گیا ہے جیسے زمرہ 1 غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کار، پنشن فنڈز، اور وسیع البنیاد سرمایہ کاری فنڈز۔ یہاں تک کہ ایسے سرمایہ کاروں کو بھی ہندوستان میں سرمایہ کاری کے لیے ایس وی پیزکے قیام پر دوبارہ نظر ڈالنے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔