Bharat Express DD Free Dish

South Asia News

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس سید اسد رضا نے تصدیق کی کہ تازہ امدادی کارروائی کے دوران آٹھ مزید لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 14 ہو گئی۔ حکام کے مطابق بیشتر لاشیں ناقابل شناخت ہیں، جن کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جائے گا تاکہ ان کی لاشیں کنبے کی حوالے کی جاسکیں۔

رواں ماہ بنگلہ دیش میں کسی سیاسی رہنما پر فائرنگ کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل انقلاب منچ کے کنوینر شریف عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکہ کے بجوئے نگر علاقے میں قریب سے گولی ماری گئی تھی۔ بعد ازاں انہیں علاج کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا، تاہم وہ 18 دسمبر کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔