Bharat Express DD Free Dish

Public Health

جے پی نڈا نے کہا کہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں گزشتہ بارہ برسوں کے دوران ملک نے ہر شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے، جبکہ صحت کے میدان میں ہونے والا کام بے مثال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017 میں متعارف کرائی گئی قومی صحت پالیسی سابقہ پالیسیوں سے بالکل مختلف تھی، کیونکہ اس کا مقصد صرف بیماریوں کا علاج کرنا نہیں بلکہ لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اور صحت مند زندگی کو فروغ دینا بھی تھا۔

گوتم اڈانی کے مطابق اس پہل کا مقصد آنے والے برسوں میں ملک بھر میں آنکھوں کی معیاری طبی خدمات کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔ بہار کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ کسی شخص کی بینائی بحال کرنا صرف ایک طبی علاج نہیں بلکہ اس کی زندگی میں امید، خود اعتمادی اور وقار واپس لانے کا ذریعہ بھی ہے۔

وزیر اعظم نے گزشتہ روز نوجوانوں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا، ڈیجیٹل انڈیا، اسکل انڈیا اور اٹل انوویشن مشن جیسی اسکیموں نے نوجوانوں کو اختراع اور صنعت کاری کے میدان میں نئی توانائی فراہم کی ہے۔

خسرہ ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ متاثرہ افراد کی ناک، منہ یا گلے سے خارج ہونے والی بوندوں کے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس کی ابتدائی علامات عموماً انفیکشن کے 10 سے 12 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں، جن میں تیز بخار، ناک بہنا، آنکھوں کا سرخ ہونا، منہ کے اندر سفید دھبے شامل ہیں۔ چند دن بعد جسم پر سرخ دانے نمودار ہوتے ہیں جو پہلے چہرے اور گردن سے شروع ہو کر پورے جسم میں پھیل جاتے ہیں۔ 

وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں کہا کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بچوں کی اموات میں تیزی سے کمی کے لیے بھارت کی تعریف کی گئی ہے، جو ملک کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے اس کامیابی کو صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات اور عوامی فلاحی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا۔

حکام کے مطابق اس اقدام سے علاقے میں تشخیصی صلاحیت اور طبی خدمات کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے نہ صرف سرکاری صحت کے نظام کو تقویت ملی ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے بہتر اور آسان طبی سہولتوں تک رسائی بھی ممکن ہوئی ہے۔

کئیر اکانومی کو اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے روزگار کے بہت زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں۔  معاشرے کے کمزور طبقات جیسے بزرگ اور بیمار افراد کو بہتر سہولت ملتی ہے۔ خواتین کی بڑی تعداد اس شعبے میں کام کرتی ہے، اس لیے یہ خواتین کی معاشی شمولیت میں بھی مددگار ہے۔

یہ دنیا کی پہلی ایسی تحقیق ہے جس میں طویل عرصے کے دوران کئی راتوں تک گھر میں خراٹوں اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق کی تحقیقات کی گئی ہیں۔ اسٹڈی کے شرکاء درمیانی عمر کے تھے اور 88 فیصد مرد تھے۔