India-South Korea Partnership: وزیراعظم مودی کا امن و استحکام کا پیغام، ہند-جنوبی کوریا تعلقات میں پیش رفت، سیول کی عالمی سولر اتحاد اور آئی پی او آئی میں شمولیت
نئی دہلی اور سیول کے درمیان یہ ’’مستقبل شراکت داری‘‘ نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں امن، ترقی اور شمولیت کو بھی فروغ دے گی۔
India–South Korea Relations: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ پہنچے بھارت، وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ملاقات، وزیراعظم مودی سے ہوگی دوطرفہ بات چیت
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے صدر لی سے ملاقات کے بعد کہا کہ ان کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیراعظم مودی کے ساتھ ہونے والی بات چیت اس شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
India-Canada Defence Dialogue: مارک کارنی کے ساتھ مذاکرات کے بعد وزیراعظم مودی کا بھارت-کینیڈا دفاعی مکالمہ شروع کرنے کا اعلان
مارک کارنی کے ساتھ مذاکرات کے بعد 2030 تک 50 ارب ڈالر تجارت اور یورینیم کی طویل مدتی فراہمی پر اتفاق۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ مارک کارنی کا یہ دورہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں کو نئی توانائی فراہم کرے گا۔
PM Modi holds talks with Croatia PM: وزیر اعظم نریندر مودی کی کروشیا کے وزیراعظم سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق
ٹیکنالوجی، بلیو اکانومی اور انڈیا-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے پر پیش رفت پر زور۔ یہ ملاقات حیدرآباد ہاؤس میں ہوئی جس میں بھارت اور کروشیا کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی شراکت داری کو وسعت دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
PM Modi holds talks with Bhutan PM: وزیراعظم مودی کی بھوٹان کے وزیراعظم سے ملاقات، اے آئی اور دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر توانائی، روابط اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق۔ وزیراعظم مودی نے ملاقات کو ’’شاندار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت اور بھوٹان کی دوستی نئے اور تبدیلی لانے والے شعبوں تک پھیل رہی ہے۔
PM Modi holds talks with Kazakhstan PM: وزیراعظم مودی کی قزاقستان کے وزیراعظم سے ملاقات، اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پراتفاق
انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 بھارت منڈپم، نئی دہلی میں منعقد ہو رہی ہے۔ یہ سمٹ 16 فروری سے شروع ہو کر 20 فروری 2026 تک جاری رہے گی۔ اس عالمی اجلاس میں حکومتی پالیسی ساز، صنعت سے وابستہ ماہرین مصنوعی ذہانت، ماہرین تعلیم، ٹیکنالوجی اختراع کار اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شریک ہیں، جہاں مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی مباحث کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔





