Modi to Address Israeli Parliament: وزیر اعظم مودی کا اسرائیل دورہ: پارلیمنٹ خطاب سے تاریخ ساز لمحات تک، یہاں جانیے مکمل شیڈول
وزیر اعظم نریندر مودی تاریخ ساز سفر کے لیے اسرائیل پہنچ گئے ہیں اور وہ نیسیت (اسرائیلی پارلیمنٹ) کو خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنیں گے۔ مودی کے دورے کے سرکاری پروگرام میں بنجامین نتن یاہو کے ساتھ دوطرفہ ملاقات، انوویشن ایونٹ، اور کنگ ڈیوڈ ہوٹل میں سرکاری عشائیہ شامل ہیں۔
India-Israel Relations: جے رام رمیش نے وزیراعظم مودی کے دورۂ اسرائیل کو ’منافقانہ اور موقع پرستانہ‘ قرار دیا، فلسطین سے متعلق حکومت کے موقف پر سوال
جے رام رمیش نے کہا کہ بھارت ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے 18 نومبر 1988 کو ریاست فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور الزام لگایا کہ موجودہ حکومت نے اس تاریخی ورثے کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت فلسطینی کاز سے وابستگی کے حوالے سے بیانات تو دیتی ہے، لیکن عملی طور پر اسے ترک کر چکی ہے۔
Israel PM Netanyahu Hexagon Of Alliance: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا ’ہیکساگون آف الائنس‘ منصوبہ، بھارت سمیت چھ ممالک کے اتحاد کی تیاری، مقصد کیا اور کس کے خلاف پیغام؟
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے مغربی ایشیا میں ایک نئے اسٹریٹجک اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جسے ’’ہیکساگون آف الائنس‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد میں بھارت سمیت چھ ممالک کو شامل کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
PM Netanyahu On PM Modi Israel Visit: وزیر اعظم مودی کا اسرائیل دورہ اہم، اے آئی اور کوانٹم ٹیکنالوجی پر ہوگی گفتگو: نتن یاہو
بھارت کے وزیر اعظم مودی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچیں گے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے اس دورے کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور سلامتی تعاون کو نئی تقویت ملے گی۔
PM Modi’s Israel visit important: وزیراعظم نریندر مودی کا اسرائیل دورہ اہم، 25 فروری سے شروع ہوگا دو روزہ سرکاری دورہ، اقتصادی، سفارتی اور سکیورٹی تعاون کو نئی سمت ملنے کی امید
نیتن یاہو نے بھارت کے ساتھ مل کر انتہاپسندی کے خلاف ایک مضبوط گروپ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطیٰ اور اس کے اطراف ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتا ہے جو مختلف اتحادی ممالک پر مشتمل ہو۔ ان کے مطابق اس اتحاد میں بھارت، یونان، قبرص اور بعض عرب، افریقی اور ایشیائی ممالک شامل ہو سکتے ہیں۔





