Bharat Express DD Free Dish

Nepal Disaster

مرکز کے میڈیا ہال میں منعقدہ ماہانہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے قومی سکریٹری مولانا شفیع مدنی نے کہا کہ نیپال میں آنے والی تباہی کا پیمانہ انتہائی وسیع ہے اور اس وقت پہلی ترجیح متاثرہ خاندانوں تک خوراک، طبی سہولیات، صاف پانی اور دیگر ضروری امداد پہنچانا ہے۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے مطابق پیر تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 903 ہو گئی، جبکہ تقریباً 4,247 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 10,451 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔

نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد ہندوستان نے راحت اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ ہندوستانی فضائیہ کا C-130J طیارہ 11 ٹن امدادی سامان اور جدید سرچ اینڈ ریسکیو آلات کی چوتھی کھیپ لے کر کاٹھمنڈو پہنچا ہے۔

ٹیڈروس نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی فوری ترجیح سیلاب سے متاثرہ برادریوں کو صحت کی خدمات فراہم کرنا اور جہاں طبی سہولیات متاثر ہوئی ہیں، انہیں دوبارہ بحال کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی ادارۂ صحت نیپالی حکومت کی قیادت میں عوامی صحت کے تحفظ کے لیے مختلف شراکت دار اداروں کے درمیان ضروری رابطہ، نگرانی اور تکنیکی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔