Message From NCMEI’s Officiating Chairman Prof Shahid Akhtar To The Youth Of Mewat: میوات کے نوجوانوں کو این سی ایم ای آئی کے کارگزار چیئرمین پروفیسر شاہد اختر کا پیغام: تعلیم ہی قومی تعمیر کی بنیاد ہے، اقلیتی تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانے کی جانب بڑا اقدام
قومی اقلیتی تعلیمی کمیشن کے قائم مقام چیئرمین نے نوح میں منعقدہ مکالماتی پروگرام میں نوجوانوں سے اپیل کی، افسران کو ہدایات جاری کیں – ڈی ایم آفس میں جائزہ اجلاس منعقد
Welfare Of Minority Women and Children: مرکزی وزیر برائے خواتین و اطفال بہبود ساوتری ٹھاکر نے این سی ایم ای آئی کے پروفیسر شاہد اختر کے ساتھ مل کر اقلیتی خواتین و اطفال کی فلاح کا ایجنڈا آگے بڑھانے کا عہد کیا
دہلی میں تعمیری ملاقات: ڈبلیو سی ڈی وزارت کے نچلی سطح کے پروگراموں اور این سی ایم ای آئی کے آئینی مینڈیٹ کے درمیان ہم آہنگی پر غور
Prof Shahid Akhtar Meets Maharashtra Governor: گورنر مہاراشٹر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقات میں این سی ایم ای آئی کے چیئرمین نے اقلیتی اداروں کو ’ترقی یافتہ بھارت‘ کا ستون بنانے کا مطالبہ کر دیا
این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کی گورنر جشنو دیو ورما سے ملاقات، 2047 تک بھارت کو ترقی یافتہ ملک بنانے کے سفر میں اقلیتی کالجوں کے اہم کردار پر بات چیت...
Minority Educational Rights: این سی ایم ای آئی (NCMEI) کے قائم مقام چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کی زیر صدارت ممبئی کی تاریخی ملاقات نے اقلیتی تعلیمی حقوق کو مضبوط کیا
این سی ایم ای آئی کے قائم مقام چیئرمین نے مہاراشٹر حکومت کے حکام اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے نمائندوں کو اکٹھا کیا تاکہ آرٹیکل 30 (1) اور این سی ایم ای آئی ایکٹ کی دفعہ 10 کے تحت اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
Minority Institutions as Nation Builders: اقلیتی تعلیمی ادارے بطور قوم ساز: این سی ایم ای آئی کانفرنس نے ”ویکست بھارت @ 2047“ کا راستہ متعین کیا
اتحاد، تنوع اور قومی ترقی میں اقلیتی تعلیم کے کردار پر غور کے لیے لکھنؤ میں نامور رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کا اجتماع
NCMEI Chairman met Dharmendra Pradhan: اقلیتی تعلیم کا فروغ قومی تعمیر ہے: این سی ایم ای آئی چیئرپرسن نے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد کیا اپنے عزم کا اعادہ
وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اہم ملاقات میں پروفیسر شاہد اختر نے جامع و ہنرمند ہندوستان کی تشکیل میں اقلیتی اداروں کے محوری کردار پر زور دیا۔





