Iran Natanz Nuclear Site Attack: کیا اب جنگ ’ایٹمی‘ رخ اختیار کرے گی؟ ایران کے سب سے بڑے جوہری مرکز پر حملہ، تہران کا دعویٰ — خطرے میں ہے پوری دنیا
ایران کے نطنز جوہری مرکز پر حملے نے اس تنازع کو انتہائی خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ نطنز صرف ایران کا یورینیم افزودگی مرکز ہی نہیں بلکہ زمین کے اندر گہرائی میں قائم ہونے کی وجہ سے اسے ناقابلِ تسخیر دفاعی تنصیب سمجھا جاتا تھا۔ اگر تابکاری کے اخراج (ریڈی ایشن لیک) کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ جنگ محض فوجی تصادم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایک عالمی ماحولیاتی تباہی کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
“US bombing violates international law”: بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے امریکی بمباری: ایرانی جوہری ایجنسی
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ امریکہ، اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔ ایران کو اس تنازعے کو ختم کرنے پر اتفاق کرنا چاہیے۔ اس سے قبل جمعہ کے روز ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کے لیے زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کا وقت دیا ہے۔





