Artemis II crew ‘happy and healthy’ after completing historic mission: آرٹیمس II کی تاریخی کامیابی، اورین کیپسول سے مسکراتے ہوئے باہر آئے چاروں خلاباز، چاند کے گرد تاریخی سفر مکمل
اس مشن کے دوران خلا باروں نے زمین سے تقریباً 248,655 میل کا فاصلہ طے کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کیا۔ خلائی سفر کے دوران وہ اپنے سب سے دور مقام پر تقریباً 252,756 میل تک پہنچے۔ اس طرح انہوں نے اپالو 13 کا پرانا ریکارڈ توڑ دیا،
Sunita Williams retires from NASA: خلاباز سنیتا ولیمز ناسا سے ریٹائر، 27 سالہ شاندار اسپیس کیریئر کا اختتام
سنیتا ولیمز کی پیدائش اوہائیو کے شہر یوکلِڈ میں ہوئی۔ حالانکہ، وہ میساچوسٹس کے نیڈہم کو اپنا آبائی شہر مانتی ہیں۔ ان کے والد ایک نیورو ایناٹومسٹ ہیں جو گجرات کے مہسانہ ضلع کے جھولاسن میں پیدا ہوئے تھے اور بعد میں امریکہ منتقل ہو گئے۔
Sunita Williams talking about their Crew9 mission: سنیتا ولیمز کی پہلی پریس کانفرنس ،کھولئے کئی اہم راز، بتایا خلاء سے کیسا نظرآتا ہے ہندوستان
سنیتا ولیمز نے کہا کہ ہندوستان شاندار ہے۔ جب بھی ہم ان کے اوپر سے گزرے، بِچ ولمر نے ہمالیہ کی ناقابل یقین تصاویر لیں۔ خلا سے ہمالیہ کا نظارہ شاندار ہے۔ ہمیں ایسا لگا جیسے ہندوستان میں لہریں اٹھ رہی ہیں اور نیچے کی طرف بہہ رہی ہیں۔
Sunita Williams Returns: قریب 18 سال بعد ہندوستان آئیں گی سونیتا ولیمز،پی ایم مودی نے دی ہے خاص دعوت
سنییتا ولیمز اور ان کے ساتھیوں کا یہ خلائی سفر کامیابی سے مکمل ہوا ہے۔ اس مشن کے دوران انہوں نے کئی اہم سائنسی تجربات کیے اور نئی تکنیکی ترقی پر کام کیا۔ ان کی واپسی کے ساتھ ہی، اب ان کے آئندہ منصوبوں پر بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔
PM Modi on Sunita Williams’ Return: سنیتا ولیمز کی واپسی پر پی ایم مودی نے کہا- زمین پر خوش آمدید، آپ کا اٹوٹ عزم ہمیشہ لاکھوں لوگوں کو کرتا رہے گا متاثر
خلابازوں کو اسپیس ایکس کے ڈریگن خلائی جہاز کے ذریعے بحفاظت فلوریڈا کے ساحل پر اتارا گیا۔ زمین پر واپس آئے خلابازوں نے ایک خوبصورت اور غیر متوقع تجربہ کیا۔ ان کا استقبال ڈولفن نے کیا۔ جیسے ہی ڈریگن کیپسول سمندر میں اترا، ڈولفن کو کیپسول کے گرد تیرتے ہوئے دیکھا گیا۔
Sunita Williams Returns to Earth: کیا کھا کر 9 ماہ تک خلا میں زندہ رہے سنیتا ولیمز اور بوچ ولمور؟ آپ بھی جان لیجئے
خلابازوں کے لیے خلا میں کئی ماہ گزارنا آسان نہیں ہوتا ہے۔ اس دوران کئی جسمانی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں مسلز اور ہڈیوں کو پہنچنے والے نقصان، جسم میں سیال کی تبدیلی کی وجہ سے گردے کی پتھری، بینائی کے مسائل اور کشش ثقل کی وجہ سے جسم کو متوازن رکھنے میں دشواری بھی شامل ہے۔ جس کے لیے ناسا نے مکمل تیاریاں کر رکھی تھیں۔





