Bharat Express DD Free Dish

Myanmar President U Min Aung Hlaing

بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت میانمار کا ایک قابل اعتماد ہمسایہ اور مشکل حالات میں مدد فراہم کرنے والا شراکت دار رہا ہے اور آئندہ بھی دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

میانمار کے صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایسے تمام گروہوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو میانمار کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے خلاف سرگرمیاں انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تعاون اور انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سلامتی سے متعلق چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

آنگ سان سوچی کا معاملہ میانمار میں 2021 کے فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا تھا۔ فوج نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سوچی کے خلاف متعدد مقدمات قائم کیے تھے، جن میں بدعنوانی، کووڈ ضوابط کی خلاف ورزی اور فوج کے خلاف عوامی اشتعال انگیزی جیسے الزامات شامل تھے۔ بعد ازاں انہیں طویل قید کی سزا سنائی گئی، جسے بعد میں گھر میں نظربندی میں تبدیل کر دیا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور میانمار کے صدر یو من آنگ ہلینگ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر دونوں لیڈروں نے خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔