Bharat Express DD Free Dish

Mark Carney

کارنی کے مطابق مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کینیڈا کے مقررہ اہداف حاصل کرنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ امریکی ٹیرف کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا امریکا کے نئے محصولات کا جواب بھی اسی قدر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے لگائے گئے نئے ٹیرف کے مقابلے میں کینیڈا بھی ڈالر بہ ڈالر جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

دونوں رہنماؤں نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور عالمی توانائی و غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اور لچکدار سپلائی چین نہایت اہم ہے۔ ملاقات میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی)، مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور میٹالرجیکل کوئلے سے متعلق تجارتی انتظامات سمیت اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا۔

دوسری جانب عالمی لیڈروں نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انتونیو کوسٹا نے کہا کہ شہری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم مودی نے دہلی کے تاریخی حیدرآباد ہاؤس میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی سے اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق مارک کارنی اپنے پیشرو کے برعکس پنجاب کا دورہ نہیں کریں گے، جسے بھارتی حکام کے ساتھ اعتماد سازی کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کارنی کی خارجہ پالیسی زیادہ عملی اور اقتصادی مفادات پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔

وزیر اعظم کارنی کے دفتر کی جانب سے جاری سرکاری بیان کے مطابق وہ اپنے دورے کے آغاز میں پہلے ممبئی پہنچیں گے، جس کے بعد وہ نئی دہلی کا دورہ کریں گے۔ نئی دہلی میں ان کی ملاقات بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے طے ہے، جہاں دونوں لیڈر دوطرفہ تعلقات کو نئی سمت دینے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کریں گے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہندوستان کی بھرپور حمایت کرنے پر عالمی برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’پہلگام دہشت گرد حملہ صرف ہندوستان پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تھا۔‘‘

کینیڈا کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے، "وزیر اعظم مارک کارنی اور وزیر اعظم مودی نے ہندوستان-کینیڈا تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کیا، جو باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔"

اگرچہ پی ایم مودی کے پروگرام کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے، تاہم توقع ہے کہ وہ 17 جون کو G7 آؤٹ ریچ سیشن کے لیے بروقت البرٹا پہنچ جائیں گے۔

کینیڈا کے سابق رکن پارلیمنٹ چندرا آریہ نے کہا ہے کہ اگر وزیر اعظم نریندر مودی جی 7 سربراہی اجلاس کے لیے کینیڈا آتے ہیں تو ان کا استقبال کرتے ہوئے ہمیں فخر محسوس ہوگا۔