Bharat Express DD Free Dish

Maoist violence

بھارت میں ماؤ نواز یا نکسلی تحریک، جو کبھی ”جنگ آزادی“ اور ”انقلاب“ کے نظریے پر مبنی تھی، آج اندرونی بحران، نظریاتی انتشار اور قیادت کے فقدان کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔بھوپتی اور ستیش، دونوں تنظیم کے تجربہ کار حکمت عملی اور فیلڈ آپریشنز میں اہم کردار ادا کرنے والے کیڈر تھے۔ ان کی خودسپردگی نے تنظیم کے نچلے سطح کےکیڈروں میں شدید تشویش اور خوف کی لہر پیدا کر دی ہے۔

ماؤ نواز تشدد کو ترقی مخالف قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، "ماؤ نواز دہشت گردی کا بحران اپنے اختتام کے قریب ہے اور ہندوستان جلد ہی اس خطرے سے آزاد ہو جائے گا۔ پہلے 125 اضلاع متاثر تھے لیکن اب صرف 11 رہ گئے ہیں"۔

انکاؤنٹر کے مقام سے ایس ایل آر اور کئی ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ اس آپریشن میں تین اضلاع سکما، بیجاپور اور دنتے واڑہ کے ڈی آر جی، کوبرا 205، 206، 208، 210 اور 229 بٹالین کے سپاہی شامل تھے۔اس کے ساتھ اس ماہ اب تک ریاست میں مختلف انکاؤنٹر میں 26 نکسلائیٹس مارے جا چکے ہیں۔

ماؤنوازوں نے د کام میں مصروف ایک ڈمپر، ایک پوکلین، ایک ہائیوا اور ایک اسکارپیو کو آگ لگا دی گئی۔ یہاں واقعہ کے بعد گاڑیوں میں بھڑکنے والے آگ کے شعلے دور سے صاف دکھائی دے رہے ہیں