Modi Story: ’’دس بار میری آنکھیں بھر آئیں…‘‘، منوج منتشر نے پی ایم مودی کی ہیرا بین کو لکھی گئی چٹھی کے بارے میں بتایا
منوج منتشر نے ماں بیٹے کے اس پاکیزہ رشتے کے بارے میں کہا کہ اس تعلق کی توہین انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خط نہ صرف ایک بیٹے کی اپنی ماں کے لیے محبت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وزیراعظم مودی کی زندگی اور شخصیت کی تشکیل میں ہیرا بین کا کتنا اہم کردار رہا۔
Mera Desh Pahle Cultural Event: ‘میرا دیش پہلے – دی ان ٹولڈ اسٹوری آف نریندر مودی’ کا دہلی میں شاندار انعقاد، آچاریہ لوکیش مُنی سمیت ان شخصیات نے کی شرکت
’میرا دیش پہلے‘ کی موسیقی سے سجی پیشکش معروف مصنف اور نغمہ نگار منوج منتشر شکلا نے دی، جس میں بی پراک، اسنہا شنکر جیسے گلوکاروں نے اپنی آواز دی۔ پروگرام میں بی جے پی صدر جے پی نڈا، دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، وزیر کپل مشرا اور آچاریہ لوکیش مُنی سمیت کئی معزز شخصیات نے شرکت کی۔
PM Modi’s 17-page letter after his mother’s death: ’’پی ایم مودی نے ماں کی موت کے بعد لکھا تھا 17 صفحات کا خط…‘‘، منوج منتشر نے شیئر کیا جذباتی تجربہ
منوج کہتے ہیں کہ ہیرا بین کی موت کے بعد ہم سب نے دیکھا ہے کہ اگر کسی کی ماں اس دنیا سے چلی جائے تو اس سے بڑا نقصان کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ دنیا میں ہر چیز کی بھرپائی ہے لیکن اس کی کوئی بھرپائی نہیں ہے۔ پی ایم مودی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔
Bharat Literature Festival: مشہور نغمہ نگار منوج منتشر پہنچے بھارت ساہتیہ مہوتسو، کی بھارت ایکسپریس کی تعریف
بھارت لٹریچر فیسٹیول 2023 ایک مختلف قسم کا لِٹ فیسٹ ہے، جس کا مقصد پیچیدہ ماضی کے اسباق کو پرکشش مستقبل کی امیدوں اور خواہشات سے جوڑنا ہے۔ جو جدید ترین پیشرفت کو وقت کی آزمائشی روایات کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کرتا ہے۔
Manoj Muntashir Shukla’s apology: منوج منتشر شکلا نے فلم ‘آدی پورش’ سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی لیے مانگی معافی
کہ گزشتہ ماہ ریلیز ہوئی اس فلم کو اس کے ڈائیلاگ کی وجہ سے سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ بعد میں منوج منتشر سمیت فلم کی ٹیم کی جانب سے فلم کے کچھ ڈائیلاگ تبدیل کی گئے تھے۔
Aadipurush controversy: منوج منتشر نے کہا – بجرنگ بلی بھگوان نہیں ہیں، ہم نے انہیں ہم نے بنایا کیوں کہ…
خاص بات یہ ہے کہ فلم میں ایسے کئی ڈائیلاگ ہیں جن کا لیول بہت کم ہے۔ جس کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے مکالموں سے مقدس رامائن کی توہین کی گئی ہے۔ رامائن کو ماننے والے ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔





