Bharat Express DD Free Dish

Lord’s Test

مائیکل وان نے انگلینڈ کے بولنگ اٹیک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھا اٹیک ہے اور اس میں بہت صلاحیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام گیند بازوں میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا مقابلہ جمعرات سے لارڈز میں شروع ہوگا۔ پاکستان کے کپتان بابر اعظم انجری کی وجہ سے پہلے ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے سکے تھے، تاہم دوسرے ٹیسٹ میں ان کی واپسی کے امکانات روشن ہیں۔

اس تاریخی کامیابی کی سب سے بڑی ہیرو تیز گیند باز کرانتی گوڑ رہیں، جنہیں شاندار آل راؤنڈ بولنگ کارکردگی پر ’پلیئر آف دی میچ‘ قرار دیا گیا۔ کرانتی نے پہلی اننگز میں پانچ وکٹیں لے کر لارڈز کے مشہور ’آنرز بورڈ‘ پر اپنا نام درج کرانے والی پہلی خاتون کرکٹر بننے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔

یہ مقابلہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ لارڈز میں خواتین کا ٹیسٹ میچ منعقد ہو رہا ہے۔ بھارتی سلامی بلے باز اسمرتی مندھانا نے اس میچ کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کریئر کا 300واں میچ کھیل کر ایک اہم سنگ میل عبور کیا جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کی تجربہ کار بلے باز ٹیمی بیومونٹ اپنے بین الاقوامی کریئر کا آخری میچ کھیل رہی ہیں۔

اس سے پہلے اس میچ میں بھارت اور انگلینڈ دونوں کی پہلی اننگز 387 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ انگلینڈ نے دوسری اننگز میں محض 192 رنز بنائے تھے اور بھارت کو جیت کے لیے 193 رنز کا ہدف ملا تھا۔

بھارت اور انگلینڈ دونوں نے اپنی پہلی پاری میں 387 رن بنائے تھے اس طرح انگلینڈ کو ایک بھی رن کی سبقت حاصل نہیں تھی۔ ہندوستان کے گیندبازوں نے اب تک بہترین مظاہرہ کیا ہے، اور اگر یہی رفتار برقرار رہی، تو بھارت کے جیتنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

بھارت کی پہلی اننگز 387 رنز پر سمٹ گئی تھی۔ ہندوستان کی جانب سے اوپنر کے ایل راہل نے سنچری اسکور کی۔ وہ 100 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے۔ رشبھ پنت نے 74 اور رویندر جڈیجہ نے 72 رنز بنائے۔ اس کے علاوہ کرونا نائر نے 40 رنز کی اننگز کھیلی۔ انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے تین، بین اسٹوکس اور جوفرا آرچر نے 2-2 اور برائیڈن کارس، شعیب بشیر نے 1-1 وکٹ حاصل کی۔

مخالف ٹیم کے نچلے آرڈر کے بلے باز ہندوستانی ٹیم کے لیے ہمیشہ ایک مسئلہ رہے ہیں۔ یہاں بھی ہندوستانی ٹیم نے انگلینڈ کی اننگز میں 271 رن پر سات وکٹیں حاصل کی تھیں۔ لیکن، آخری تین وکٹوں نے 116 رنز جوڑے اور ٹیم کو باعزت مقام پر پہنچا دیا۔