Bharat Express DD Free Dish

Leadership Outreach

20 جنوری کو راہل گاندھی اپنے پارلیمانی حلقے رائے بریلی (اتر پردیش) کا دورہ کریں گے، جہاں وہ کانگریس کی ’منریگا بچاؤ‘ مہم کے تحت ایک عوامی اجلاس سے خطاب کریں گے، جو VB-G RAM G ایکٹ 2025 کے خلاف منعقد کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے ریلوے، آبی نقل و حمل اور لاجسٹکس سے جڑے اہم پروجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا اور افتتاح کیا۔ بالاگڑھ میں جدید کارگو ٹرمینل کا سنگ بنیاد رکھا گیا جس کی سالانہ صلاحیت تقریباً 27 لاکھ ٹن ہوگی۔

نئی دہلی میں پونگل تقاریب میں شرکت، مرکزی وزیر ایل موروگن کے گھر پونگل مناتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے تمل ثقافت کو پورے بھارت کی مشترکہ وراثت قرار دیا، کسانوں کے لیے ’’تھالی، جیب اور دھرتی‘‘ کا منتر دیا۔

دورے کی ایک نمایاں جھلک وزیراعظم مودی کی جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے ساتھ مصروفیات رہیں، جو بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ دونوں رہنماؤں کو گجرات میں اپنی مصروفیات کے بعد ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا، جو ان کے خوشگوار ذاتی تعلقات اور بھارت۔جرمنی دو طرفہ رشتوں کی مضبوطی کی علامت ہے۔

وزیرداخلہ امت شاہ نے تمل ناڈو کے عوام سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی کے ’ترقی یافتہ بھارت‘ کے وژن کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کریں۔  انہوں نے ڈی ایم کے حکومت کو ملک کی یعنی سب سے زیادہ بدعنوان حکومت قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امت شاہ انتخابات تک ہر ماہ کم از کم دو دن ان ریاستوں میں گزاریں گے اور بی جے پی کی جیت کے لیے عملی حکمت عملی پر کام کریں گے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ چار میں سے تین ریاستوں میں اس وقت غیر این ڈی اے حکومتیں برسرِ اقتدار ہیں۔

وزیراعظم مودی جمعرات کو عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے دو طرفہ مذاکرات کریں گے۔ اس دوران بھارت اور عُمان کے درمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پر دستخط کیے جائیں گے۔ 18 دسمبر کو ہونے والا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل مانا جا رہا ہے۔

وزیراعظم مودی پیر کے روز اردن، ایتھوپیا اورعُمان کے تین ملکی دورے پر روانہ ہوئے ہیں۔ یہ دورہ بھارت کے ان ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ اردن کا یہ دورہ چار روزہ غیر ملکی سفر کا پہلا مرحلہ ہے۔

تجارت اور صنعت، بنیادی ڈھانچہ کی ترقی، تجدیدی توانائی، زراعت اور خوراکی تحفظ یہ سب شعبے وزیراعظم کے مصروف دن میں شامل تھے، جو ان کی قیادت کے متنوع ترجیحات اور مسلسل رفتار کو ظاہر کرتے ہیں۔