نئی نسل اوربچوں کے ساتھ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعامل بڑا حکیمانہ اور مستحکم تھا، مولانا محمد رحمانی نے موجودہ نسل سے اسوہ رسول پرعمل کرنے کی اپیل کی
مولانا محمد رحمانی مدنی نے کہا کہ بڑے افراد پربچوں کو مقدم کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا، بچوں سے اذیت اور تکلیف کو دور کرنا وغیرہ بھی آپ کی سیرت مطہرہ کا اہم گوشہ ہے اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے وقت بچوں کو باہر کھیلنے سے روکتے تھے کیوں کہ یہ شیاطین کے گھومنے کا وقت ہوتا ہے اور بچوں سے کھیل کود اورہنسی مذاق کا خاص اہتمام فرماتے تھے یہاں تک کہ نمازکی حالت میں بھی آپ کے نواسے حسن وحسین اور نواسی امامہ اور دیگربچوں اور بچیوں کو گود میں اُٹھالیتے اورکندھے پربٹھا کرخطبہ دیتے۔ نیزبچے سجدہ کی حالت میں آپ کی پیٹھ پربیٹھتے توسجدہ لمبا کردیتے وغیرہ یہ سب سیرت مبارکہ کے وہ بنیادی پہلوہیں، جونئی نسل کی تربیت کے اہم گوشے ہیں۔
سب سے خوش نصیب مسلمان وہ ہے، جوفتنوں سے بچ جائے: مولانا محمد رحمانی مدنی نے مسلمانوں سے کی بڑی اپیل
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ سب سے زیادہ سعادت مند مسلمان وہ ہے، جوفتنوں سے محفوظ رہے اوریہ ایک مسلمان کی خوبی اور لازمی صفت ہے کہ وہ سب کے لیے خیرخواہ ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارفرمایا کہ دین خیر خواہی کا نام ہے۔




