Bharat Express DD Free Dish

Kerala Politics

کانگریس کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ہفتے سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی مشاورت اور قیادت کے لیے اندرونی رسہ کشی کے بعد سامنے آیا۔ اس دوران کیرالا کے کئی سرکردہ رہنما مسلسل دہلی کے دورے کرتے رہے۔

پرینکا گاندھی واڈرا نے بڑی کامیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پارٹی دیانت داری اور عاجزی کے ساتھ اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

کیرالہ سمیت مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام اور پڈوچیری کے 823 حلقوں میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ گنتی کا عمل پوسٹل بیلٹ سے شروع ہو کر ای وی ایم ووٹوں تک جاری ہے اور نتائج مرحلہ وار جاری کیے جا رہے ہیں۔ سکیورٹی کے سخت انتظامات کے درمیان نتائج کا سلسلہ جاری ہے اور دن بھر میں سیاسی منظرنامہ مزید واضح ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اگر کیرالہ میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ریاست ترقی کی نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ انہوں نے شمال مشرقی ریاستوں اور گوا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جہاں این ڈی اے حکومتیں قائم ہیں، وہاں ترقی کے وہ کام انجام دیے گئے ہیں جو گزشتہ 50 سے 60 برسوں میں نہیں ہوسکے تھے۔

انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس بار کیرالہ میں حالات پہلے سے مختلف ہیں اور تبدیلی کی ایک واضح لہر نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 اپریل کو ہونے والی ووٹنگ اور 4 مئی کو نتائج کے اعلان کے ساتھ ہی دہائیوں پر محیط بدانتظامی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

’’میرا بوتھ سب سے مضبوط‘‘ پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط جمہوری عمل کے لیے بوتھ سطح پر سرگرمی نہایت اہم ہوتی ہے، اور کارکنان کی محنت ہی پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

پرینکا گاندھی نے کیرالہ کے وزیراعلیٰ پنارائی وجین کی قیادت والی بائیں بازو کی حکومت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت بی جے پی کے ساتھ خفیہ ہم آہنگی رکھتی ہے اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کیرالہ اسمبلی انتخابات 2026 کے لیے ووٹنگ 9 اپریل کو ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ موجودہ اسمبلی کی مدت 23 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ ریاست میں اصل مقابلہ بی جے پی-این ڈی اے، ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کے درمیان متوقع ہے۔

کانگریس رہنما نے ایل ڈی ایف حکومت کو ’’کارپوریٹ فنڈڈ حکومت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بائیں بازو کی نظریاتی شناخت کھو دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ڈونلڈ ٹرمپ کے اثرات کا ذکر کیا جاتا ہے، اسی طرح نریندر مودی کیرالہ کے وزیراعلیٰ کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ بدعنوانی بھی ایک بڑا عنصر ہے۔

پلکّڑ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ اور یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ پر الزام لگایا کہ دونوں اتحاد دہائیوں سے باری باری حکومت کر کے ریاست کو ’’لوٹتے‘‘ رہے ہیں۔