Bharat Express DD Free Dish

Japan Visit

بھارت روانگی سے قبل جاپانی وزیراعظم نے کہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ تزویراتی شراکت داری، اقتصادی سلامتی، سرمایہ کاری، اختراع اور ہند-بحرالکاہل خطے میں امن و استحکام پر تبادلۂ خیال ہوگا۔

مودی کی سفارتی حکمت عملی کی تعریف، دیوے گوڑا کا کہنا ہے کہ مودی کی اسٹریٹجک ملٹی الائنمنٹ پالیسی سے بھارت کو قریب مستقبل میں فائدہ ہوگا، پوتن اور شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات کو ’نئے جاگرن‘ کی علامت قرار دیا

چین میں ایس سی او اجلاس اور عالمی امور پر گفتگو، عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، دہشت گردی کی مخالفت اور رابطے کے فروغ پر دیا زور، جاپان کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا عزم

وزیراعظم مودی مودی کا جاپان کا دورہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بلیٹ ٹرین منصوبہ نہ صرف بھارت کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ ایشیا میں بھارت-جاپان شراکت کو بھی مستحکم کرے گا۔

وزیر اعظم مودی اور وزیر اعظم ایشیبا نے سینڈائی میں سیمی کنڈکٹر فیکٹری کا دورہ کیا اور بھارت اور جاپان کے درمیان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور سپلائی چینز میں تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

اقتصادی سلامتی بھارت اور جاپان کے تعاون کا ایک اہم ستون ہے، جس میں سیمی کنڈکٹرز، مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور صاف توانائی شامل ہیں۔ بھارت کے لیے اس شراکت داری سے جدید ٹیکنالوجی تک رسائی، سپلائی چین کی مضبوطی اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جو دونوں ممالک کے تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔

اپنے خطاب میں مودی نے کہا:"آٹو سیکٹر میں ہماری شراکت داری کامیاب رہی ہے۔ ہم یہی جادو بیٹریز، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹر، شپ بلڈنگ اور نیوکلیئر انرجی میں بھی دہرا سکتے ہیں۔ ہم مل کر گلوبل ساؤتھ، خاص طور پر افریقہ کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔