Jan Nisar Akhtar Poetry: آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔




