Bharat Express DD Free Dish

Jaisalmer

راجستھان کے صحرائی ضلع جیسلمیر میں پانی کے شدید بحران کے درمیان ایک بڑی اور تاریخی کامیابی سامنے آئی ہے۔ بھارت سرکار کی وزارتِ جل شکتی کے تحت کرائے گئے ہیلی بورن جیو فزیکل سروے میں ضلع کے 64 مقامات پر زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی موجودگی کے قوی امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔

راجستھان کے جیسلمیر-جودھ پور ہائی وے پر منگل کو ایک نجی بس میں آگ لگنے سے 20 افراد ہلاک اور 16 زخمی ہو گئے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے مرنے والوں کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔

راجستھان کے جیسلمیر ضلع میں منگل کو ایک خوفناک سڑک حادثہ پیش آیا۔ جیسلمیر سے جودھ پور جانے والی ایک پرائیویٹ بس میں اچانک آگ لگ گئی۔ حادثہ جودھ پور کے ایک گاؤں کے قریب پیش آیا، جہاں وار میوزیم کے قریب جاتے ہوئے بس جل کر راکھ ہو گئی۔ بتایا گیا ہے کہ بس میں تقریباً 57 مسافر سوار تھے۔

سینئر ہائیڈروجیو لوجسٹ نارائن داس نے اس دریافت کو نہ صرف جیسلمیر بلکہ پورے بھارت کے لیے فخر کا لمحہ قرار دیا۔

انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف سرکاری معلومات پر اعتماد کریں۔ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر پھیلنے والی غیر مصدقہ خبروں سے محتاط رہنے کی وارننگ بھی جاری کی گئی ہے۔

اجے کمار اتوار (26 مئی) کو سرحدی چوکی بھانو پر تعینات تھے۔ شدید گرمی کی وجہ سے ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ اس کے بعد انہیں علاج کے لیے رام گڑھ اسپتال لے جایا گیا۔ سپاہی کی موت آج یعنی پیر (27 مئی) کی صبح اسپتال میں ہوئی۔

یہ واقعہ جیسلمیر کی جواہر کالونی کے قریب پیش آیا۔ تیجس آگ کا گولا بن کر ایک گنجان آبادی والے علاقے میں گرا۔ ساتھ ہی ہاسٹل کی دیوار سے بھی ٹکرا گیا۔

یہ موسلا دھار بارش 30 سے ​​40 منٹ تک جاری رہی۔ اسی دوران اچانک آسمان سے بجلی اس درخت پر گری  جہاں پرعمر خان اور اس کا ریوڑ تھا