Bharat Express DD Free Dish

Iran Israel war news

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال دراصل امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق مسلسل فوجی اور سفارتی دباؤ نے تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ”مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا شکست خوردہ“ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران کی اس جارحانہ حکمت عملی کے پیچھے روس اور چین کی ممکنہ مدد بھی شامل ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ دونوں طاقتیں مختلف طریقوں سے ایران کی معاونت کر رہی ہیں جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید امریکی حملوں کے باوجود ایران کی بحری سرگرمیاں کم ہونے کے بجائے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

شیخ محمد بن زاید آل نہیان نے کہا کہ وہ ملک کی بہادر مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور ان تمام قومی اداروں اور ٹیموں کے شکر گزار ہیں جو ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ادارے تیاری، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں اور قوم کو ان پر فخر ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے ہفتہ کو کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا مقصد ایران کو کمزور اور تقسیم کرنا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کریں اور مانیں کہ انہیں اسرائیل نے دھوکہ دیا ہے۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے آغاز کے فوراً بعد چین نے اپنی پالیسی واضح کی۔ بیجنگ نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کی سخت مخالفت کی اور تہران کی حمایت کا اعلان کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ حمایت محض جذباتی یا بلا شرط نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے چین کے کئی اقتصادی اور سکیورٹی مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے کہا کہ اگر بھارت کو روس سے تیل خریدنے کے لیے امریکہ کی جانب سے ایک ماہ کی چھوٹ دی گئی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کہیں نہ کہیں دوسرے ملک کے اشاروں پر چل رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ فوجی حملوں کے بعد مشرق وسطیٰ میں تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران نے جواباً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، ترکی اور آذربائیجان سمیت کئی ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ تاہم سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ جب ان ممالک میں امریکی فوجی بیس نہیں تھے تو ایران نے انہیں نشانہ کیوں بنایا؟

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے حکومت سے یہ واضح کرنے کی درخواست کی کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایرانی جہاز کو نشانہ بنانے سے پہلے بھارت کو مطلع کیا تھا یا نہیں۔

ایئرپورٹ اتھارٹی نے مسافروں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کی پرواز مشرق وسطیٰ کے کسی شہر کے لیے مقرر تھی تو وہ اپنی ایئرلائن سے رابطہ کرکے پرواز کی حالت کی تصدیق ضرور کریں۔

آئی آر آئی ایس بوشہر ایک ایرانی بحری جہاز ہے جس نے انٹرنیشنل فلیٹ ریویو-2026 میں حصہ لیا تھا۔ یہ بھارت میں ہونے والی مشترکہ بحری مشق میں بھی شامل تھا، جس میں آئی آر آئی ایس ڈینا جنگی جہاز بھی شامل تھا۔