Bharat Express DD Free Dish

Iran-Israel-US War

بھارت ایکسپریس کی تیسری سالگرہ کے موقع پر منعقد میگا کانکلیو میں آچاریہ پرمود کرشنم اور جین آچاریہ لوکیش منی نے ایران-اسرائیل جنگ کی سخت مذمت کی۔ دونوں مذہبی رہنماؤں نے زور دے کر کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ مذاکرات اور امن ہی انسانیت کا حقیقی راستہ ہیں۔

چک شومر نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ اب اپنے ابتدائی دائرے سے باہر پھیلتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق لڑائی کے اثرات جنوب میں بحرِ ہند تک اور شمال میں آذربائیجان تک ڈرون حملوں کی صورت میں دیکھے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے بیرون ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ موجودہ قیادت کا ساتھ چھوڑ کر سیاسی تبدیلی کی حمایت کریں اور اگر چاہیں تو سیاسی پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ تعاون کریں گے انہیں مکمل استثنیٰ اور سکیورٹی فراہم کی جائے گی، بصورت دیگر انہیں سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے درمیان بھارت کے لیے ایک اہم اور مثبت خبر سامنے آئی ہے۔ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ بھارت اور چین کو تیل کی فراہمی بڑھانے کے لیے تیار ہے، تاکہ خطے میں جاری بحران کے دوران سپلائی میں ممکنہ خلل کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری شدید فوجی کشیدگی نے خطے کو سنگین انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں تازہ حملوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ملک کے بیشتر حصوں میں گزشتہ 48 گھنٹوں سے انٹرنیٹ خدمات معطل ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے درمیان بھارت کے وزیر اعظم مودی نے عالمی برادری سے تحمل، مذاکرات اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت ہمیشہ امن اور استحکام کا حامی رہا ہے اور موجودہ بحران کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔