Project Freedom: فرانس کا امریکی ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت سے انکار، آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے مذاکرات پر دیا زور
فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران اور امریکہ کے درمیان مربوط اور باہمی مذاکرات ضروری ہیں۔ ان کے مطابق، یہی طریقہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور عالمی تجارت کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بغیر کسی رکاوٹ اور ٹول ٹیکس کے آزادانہ جہاز رانی کو یقینی بنانا عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہے، اور یہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
Sergio Gor Nepal Visit: سرجیو گور نے نیپال کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں اور کاروباری شخصیات سے کی ملاقات، مصروفیات کے باعث نہیں ملے وزیراعظم بالین
قابل ذکر ہے کہ 27 مارچ کو نئی حکومت کے قیام کے بعد سرجیو گور نیپال کا دورہ کرنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ–نیپال تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
India as Civilisational Power: بھارت کی خارجہ پالیسی میں 2014 کے بعد بڑی تبدیلی، امریکہ کے سابق سفیر نے کی وزیراعظم مودی کی تعریف
سابق امریکی سفیر کے مطابق نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی موجودگی مضبوط کر رہا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کا کردار مزید اہم ہونے کی توقع ہے۔
PM congratulates Peter Magyar: ہنگری انتخابات میں پیٹر ماگیار کی تاریخی فتح پر وزیراعظم نریندر مودی کی مبارکباد، بھارت-ہنگری تعلقات مضبوط بنانے پر زور
ہنگری میں حالیہ انتخابات کو ایک تاریخی موڑ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ٹیزا پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرتے ہوئے 16 سال سے برسرِ اقتدار فیدیز پارٹی کو شکست دے دی۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 97 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد ٹیزا پارٹی نے 199 رکنی پارلیمنٹ میں 138 نشستیں حاصل کیں، جو کل ووٹوں کا تقریباً 53.6 فیصد بنتا ہے۔
Strategic Failure of America: ’’اسٹریٹیجک ناکامی‘‘ کی جانب بڑھا رہا ہے امریکہ، سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے جنگ کے بجائے سفارتکاری پر دیا زور
انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ ایران ایک یکساں سوچ رکھنے والا ملک نہیں بلکہ اس کے اندر مختلف نظریات اور طاقت کے مراکز موجود ہیں، جو مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’’انتہائی تجربہ کار اور سخت حریف‘‘ قرار دیا۔
PM congratulates To Lam: وزیراعظم نریندر مودی نے ویتنام کے صدر ٹولام کو دی مبارکباد، بھارت-ویتنام اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم
ٹو لام اس سے پہلے مئی 2024 سے اکتوبر 2024 تک بھی ویتنام کے صدر رہ چکے ہیں۔ انہیں 2024 میں پارٹی کی مرکزی قیادت میں اہم عہدہ دیا گیا تھا اور جنوری 2026 میں دوبارہ اسی ذمہ داری کے لیے منتخب کیا گیا۔ ٹو لام کے صدر بننے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ بھارت اور ویتنام کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا اور خطے میں استحکام کو فروغ ملے گا۔
Bilateral Summit: ہند-روس تعلقات میں مزید مضبوطی، وزیراعظم مودی اور روسی نائب وزیراعظم کے درمیان اہم ملاقات
ماہرین کے مطابق، موجودہ عالمی حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی سمت دینے اور مستقبل کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
Discussion to acquire Greenland: گرین لینڈ کے حصول پر ٹرمپ مختلف آپشنز پر غور کررہے ہیں، فوج کے استعمال کا آپشن بھی خارج ازامکان نہیں: وائٹ ہاؤس
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرو لائن لیوٹ نے سی این این کو دیے گئے بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ یہ بات کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ گرین لینڈ کا حصول امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیح ہے، خاص طور پر آرکٹک خطے میں امریکی مخالف قوتوں کو روکنے کے لیے یہ انتہائی اہم ہے۔
US mulling possible intervention in Iran: امریکہ ایران میں ممکنہ مداخلت پر کررہا ہے غور، یروشلم پوسٹ کی رپورٹ میں دعویٰ
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے خلاف کیے گئے اقدامات نے ایرانی مظاہرین کے حوصلے مزید بلند کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں پورے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
India will not be buying oil from Russia: ’’وزیراعظم مودی نے یقین دلایا ہے کہ بھارت روس سے تیل نہیں خریدے گا‘‘ امریکی صدر ٹرمپ کے بیان نے بڑھائی سیاسی ہلچل
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت سے خوش نہیں تھا کیونکہ اس سے ماسکو کو یوکرین جنگ جاری رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے اب تک تقریباً پندرہ لاکھ افراد کھوئے ہیں، جن میں زیادہ تر فوجی شامل ہیں۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔‘‘





