Bharat Express DD Free Dish

India Development

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 11 برسوں میں تلنگانہ میں نیشنل ہائی ویز کا نیٹ ورک دوگنا ہو چکا ہے۔ سڑک، ریلوے اور ہوائی اڈوں سمیت ہر شعبے میں ریکارڈ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ جدید کنکٹیوٹی کو فروغ دیا جا سکے۔

سمٹ میں ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بھارت کلین انرجی، معیشت اور ماحولیات کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ بڑے پیمانے پر رینیوایبل انرجی منصوبے نہ صرف معیشت کو مضبوط کریں گے بلکہ ماحول کے تحفظ میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ جیفری سیکس نے کہا کہ اگر بھارت نے بڑے خوابوں کے ساتھ اسی رفتار سے کام جاری رکھا تو 2047 کا ہدف حاصل کرنا ممکن ہے، اور ملک عالمی معیشت میں ایک مضبوط مقام حاصل کر لے گا۔

اڈانی گروپ نے ملک بھر میں ایک مکمل اے آئی ایکو سسٹم تیار کرنے کے لیے تقریباً 100 ارب ڈالر مختص کیے ہیں۔ اس سرمایہ کاری میں بجلی کی پیداوار، ٹرانسمیشن نیٹ ورک، ڈیجیٹل کنکٹیوٹی اور جدید ڈیٹا سینٹرز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بھارت کی ڈیجیٹل صلاحیت کو بڑھائے گا بلکہ عالمی سطح پر اسے ایک اہم ٹیکنالوجی حب میں تبدیل کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر داس، جو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ایجوکیشن اینڈ ریسرچ بھوپال کے ڈائریکٹر بھی ہیں، امیونولوجی، متعدی امراض اور سیل بائیولوجی میں تقریباً تین دہائیوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔

وزیراعظم نے اسے ’’تاریخی سنگِ میل‘‘ قرار دیا۔ مکمل طور پر دیسی ٹیکنالوجی سے تیار ری ایکٹر بھارت کی توانائی خودکفالت کو مضبوط کرے گا۔ یہ منفرد صلاحیت بھارت کو محدود یورینیم وسائل کے باوجود زیادہ توانائی حاصل کرنے میں مدد دے گی اور صاف توانائی کے میدان میں ملک کو خودکفیل بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہوگی۔

مردم شماری کے عمل سے 15 دن قبل شہریوں کے لیے خود اندراج (Self Enumeration) کی سہولت شروع ہو جائے گی، جس کے تحت لوگ اپنی سہولت کے مطابق وقت پر اپنی تفصیلات درج کرسکیں گے۔ اس عمل کے مکمل ہونے پر ایک خصوصی آئی ڈی فراہم کی جائے گی، جسے بعد میں تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔

وزیراعظم نے گجرات، تمل ناڈو، مہاراشٹر اور راجستھان جیسی ریاستوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ علاقے قابلِ تجدید توانائی کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر گجرات کے علاقوں کَچھ، پٹن اور بناس کانٹھا کا ذکر کیا، جہاں کبھی بنجر زمینیں تھیں، مگر آج وہاں بڑے بڑے قابلِ تجدید توانائی پارکس قائم ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں سے مقامی نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع مل رہے ہیں اور نئی مہارتیں بھی فروغ پا رہی ہیں۔

اس اہم منصوبے کی تعمیر میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ کمپنی نے بدایوں سے پریاگ راج تک تقریباً 464 کلومیٹر، یعنی کل منصوبے کے قریب 80 فیصد حصے کی تعمیر کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

وزیراعظم کے اس خطاب کو ہندوستان کی قدیم تہذیب، روحانی ورثے اور جدید ترقی کے درمیان ہم آہنگی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کی ترقی کا سفر اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کی جڑیں اپنی ثقافت اور روایات سے مضبوطی سے جڑی نہ ہوں۔

یہ جدید کوریڈور ایک بلند حصے پر تعمیر کیا گیا ہے تاکہ جنگلی حیات اور انسانوں کے درمیان تصادم کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس منصوبے میں آٹھ خصوصی اینیمل پاس، دو ہاتھی انڈر پاس اور دات کالی مندر کے قریب 370 میٹر لمبی سرنگ شامل ہے۔