Bharat Express DD Free Dish

Gas Cylinders

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس وقت گیس کا کافی ذخیرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کے کئی حصوں میں گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر لوگ گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے کری پلانٹ سے منسلک تھا اور 2 مارچ کو 524 ایل پی جی سلنڈرز کانپور دیہات کے گجنیر پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹرک میں سلنڈر لوڈ ہونے کے بعد ڈرائیور گھر چلا گیا تاکہ ہولی کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔ اسی دوران نامعلوم چوروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرک چوری کرلی۔

تحقیقات میں جو بھی قصوروار پایا جائے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسٹیشن اور ٹریکس کی سیکورٹی کے حوالے سے بھی ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ریلوے مانسون ویدر پیٹرولنگ بھی کرتا ہے۔

سب سے زیادہ اضافہ دہلی اور ممبئی میں ہوا ہے جہاں فی سلنڈر کی قیمت میں 25.50 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کولکتہ میں 24 روپے اور چنئی میں 23.50 روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

مرکزی بینک آف پاکستان کا اجلاس 30 اکتوبر کو ہونے جا رہا ہے۔ اس میں شرح سود کا جائزہ لیا جائے گا۔ ایسی صورتحال میں بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کچھ ضروری اقدامات کر سکتا ہے۔

ریسکیو اہلکاروں کے مطابق دھماکے کے بعد ایک جوڑے اور ان کے چار بچوں نے موقع پر ہی دم توڑ دیا۔ مقامی پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ دھماکہ سلنڈر سے گیس لیک ہونے کی وجہ سے ہوا جس سے مکان کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا سی پی آئی یعنی کنزیومر ولیو ٹیبل 24.5 فیصد پار کرگیا ہے۔ لوگ مہنگائی سے بے حال ہوگئے ہیں۔ پاکستان کا گیہوں اسٹاک ختم ہونے کی دہلیز  پر ہے۔ خیبر پختونخوا، سندھ اور بلوچستان علاقوں میں آٹا کے لے مارا ماری کے حالات بنے ہوئے ہیں

اگر آپ کو ایک سلنڈر پر A-24 لکھا ہوا نظر آتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس سلنڈر کو سال 2024 کے جنوری، فروری اور مارچ کے مہینوں میں جانچ کے لیے جانا ہے۔

ایسے میں گھریلو خواتین کا بجٹ تو خراب ہونے والا نہیں ہے لیکن ریستورانوں، ہوٹلوں وغیرہ میں کھانا مہنگا ہو سکتا ہے کیونکہ کمرشل گیس سلنڈر مہنگے ہو گئے ہیں۔ نئے نرخ بھی آج سے نافذ ہو گئے ہیں