Bharat Express DD Free Dish

foreign relations

وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ وسطی ایشیا کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، دفاع، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی اور دیگر اسٹریٹجک شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔

مشترکہ مضمون میں ’’انڈو-میڈیٹرینین کاریڈور‘‘ کے تصور پر بھی زور دیا گیا، جسے ہند-بحرالکاہل اور بحیرہ روم کے درمیان ابھرتے ہوئے تجارتی، توانائی، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک رابطوں کے نئے نظام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 27 مارچ کو نئی حکومت کے قیام کے بعد سرجیو گور نیپال کا دورہ کرنے والے اب تک کے اعلیٰ ترین امریکی سفارت کاروں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ دورہ نہ صرف سفارتی سطح پر اہمیت رکھتا ہے بلکہ مستقبل میں امریکہ–نیپال تعلقات کو نئی سمت دینے کے حوالے سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ہندوستان اور ویتنام اپنی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے 10 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔ ہندوستان اور ویتنام کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی روابط پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں اور اس دورے سے توقع کی جا رہی ہے کہ یہ تعلقات مزید گہرے ہوں گے اور نئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ فضائی حملوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ عہدیدار ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ جوابی کارروائی میں ایران نے خلیج میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد 22 دن گزرنے کے باوجود صورتحال میں بہتری نہیں آئی۔

آیت اللہ علی خامنہ ای 1989 سے ایران کے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز تھے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے 40 روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں واقع ایرانی سفارت خانے پر بھی بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے پہنچے۔

کیر اسٹارمر نے کہا کہ جولائی میں برطانیہ میں وزیراعظم مودی کی میزبانی کرنا باعثِ فخر تھا اور چند ماہ بعد بھارت کا جوابی دورہ کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی میں ملاقات اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ بھارت کی معاشی و مالیاتی راجدھانی ہے اور بھارت کی ترقی کی کہانی واقعی غیر معمولی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے شام کی تنظیم حیات التحریر الشام (سابق میں النصرہ) کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (ایف ٹی او) کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر ہوا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم امریکی دورہ پر ہیں۔