Bharat Express DD Free Dish

fcra Amendment bill

جماعت اسلامی ہند نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ نائب امیر ایس امین الحسن نے کہا کہ ایف سی آر اے ترمیمی بل کو مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے حوالے کیا جانا ایک خوش آئند قدم ہے۔ ساتھ ہی اپوزیشن، سول سوسائٹی اور مذہبی اقلیتوں کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کی روشنی میں بل کا شفاف طریقے سے ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

تمل ناڈو قانون ساز اسمبلی کا ریاستی مفادات، سماجی انصاف اور تعلیمی حقوق کے نام پر مرکز کو دو ٹوک پیغام۔ ایف سی آر اے ترمیمی بل واپس لینے اور تمل ناڈو میں نیٹ ختم کرنے کا مطالبہ۔ کمل ہاسن نے بھی دونوں قراردادوں کی متفقہ منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔

اپوزیشن جماعتیں بل کی مخالفت کر رہی ہیں، جبکہ عیسائی تنظیموں نے بھی اس کی بعض دفعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ بل فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ، 2010 میں ترمیم سے متعلق ہے، جو ہندوستان میں افراد، انجمنوں اور کمپنیوں کی جانب سے غیر ملکی عطیات وصول کرنے اور ان کے استعمال کو منظم کرتا ہے۔

وینوگوپال نے الزام لگایا کہ آر ایس ایس حکومت کو کنٹرول کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر واقعی طلبہ کے مسائل کی فکر ہے تو مظاہروں کے دوران طلبہ کے خلاف مبینہ کارروائی کی کھلے عام مذمت کی جانی چاہیے۔

پارلیمنٹ میں ایف سی آر اے (FCRA) ترمیمی بل 2026 پیش کیا جانے والا ہے۔ اس بل کے ذریعے غیر ملکی چندے، این جی اوز کی جائیدادوں اور مذہب تبدیلی (کنورژن) سے متعلق قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ جانیے ایف سی آر اے کے 50 سالہ تاریخ، اس کے ارتقا اور ملک کے سماجی و عوامی شعبوں پر اس کے وسیع اثرات۔